قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس نے کہا ہے کہ اس نے قیدیوں کے مجوزہ تبادلے پر اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں جن کے نتیجے میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی عمل میں آسکتی تھی۔ حماس نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کا احترام نہیں کر رہا ہے اور اس کی ایک بڑی مثال یہ ہےکہ اس نےغزہ کی پٹی میں وہ تمام سرحدی چوکیاں بند کر دی ہیں جن سے فلسطینی اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں۔ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اس ناکہ بندی میں نرمی کا وعدہ کیا تھا۔ فلسطینی علاقوں سے اپنی سرزمین پر راکٹ داغے جانے کے جواب میں اسرائیل اکثر سرحدی چوکیاں بند کر دیتا ہے۔ چوکیاں بند کرنے کا تازہ ترین واقعہ جمعرات کو ہوا جب جنوبی اسرائیل میں ایک راکٹ داغا گیا۔ حماس نے راکٹ حملوں میں مبینہ طور پر ملوث کئی افراد کو حال ہی میں گرفتار کیا ہے۔ حماس اور اسرائیل دونوں کا کہنا ہے کہ انیس جون سے شروع ہونے والی جنگ بندی پر عمل ہورہا ہے حالانکہ دونوں نے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے ہیں۔
گیلاد شالت کی رہائی کے لیے مصر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ شالت کو حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے عسکریت پسندوں نے جون دو ہزار چھ میں اسرائیلی علاقے میں ایک چھاپے کے دوران پکڑ لیا تھا۔ حماس نے اس کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فلسطینی قید ہیں جبکہ تقریباً سات سو فلسطینی بغیر کسی فرد جرم کے حراست میں ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم فلسطینی تنظیموں کا دعوی ہے کہ اسرائیلی افواج نے سرحد کے قریب کسانوں اور ماہی گیروں پر فائرنگ کرکے جنگ بندی توڑی ہے۔ جنگ بندی کا مقصد یہ تھا کہ اسرائیل کا غزہ کی پٹی میں داخلہ روکا جائے اور جواب میں اسرائیل پر راکٹ حملے بند ہو جائیں۔ حماس نےگزشتہ برس فتح کے ساتھ خونریز لڑائی کے بعد غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول قائم کر لیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ سے لوگوں اور سامان کی آمد ورفت پر پابندیاں سخت کر دی تھیں۔ | اسی بارے میں یروشلم:بلڈوزر حملے میں چارہلاک02 July, 2008 | آس پاس اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی29 June, 2008 | آس پاس ’حملے،جنگ بندی کی خلاف ورزی‘25 June, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||