BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 July, 2008, 22:19 GMT 03:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطٰی تنازعہ ، تصفیہ ’قریب‘
پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران
اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ جلدی ہی حل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے یہ امید فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بحیرہ روم کے ساحلی ممالک اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے ظاہر کی۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے کے اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نےکہا کہ دونوں فریق سنجیدہ ہیں اور قیام امن چاہتے ہیں۔

 مشرق وسطی کے ممالک کو اپنے اختلافات اسی طرح ختم کرنے چاہئیں جیسے بیسویں صدی میں یورپ نے کیے تھے
نکولا سارکوزی

اس سربراہی اجلاس میں بحیرہ روم کے ارد گرد واقع ممالک کی ایک تنظیم کا افتتاح کیا گیا ہے جسے یونین فار دی میڈیٹرینین کا نام دیا گیا ہے۔

نئی تنظیم کی اہم ترین ترجیحات میں مشرق وسطی کا تنازعہ حل کرنا شامل ہے لین ساتھ ہی وہ آلودگی اور نقل مکانی جسیے مسائل کا احاطہ بھی کرے گی۔

سربراہی اجلاس کی میزبانی کے فرائض فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے انجام دیے۔

مسٹر ساروکزی نے کہا کہ مشرق وسطی کے ممالک کو اپنے اختلافات اسی طرح ختم کرنے چاہئیں جیسے بیسویں صدی میں یورپ نے کیے تھے۔

سربراہی اجلاس سے قبل مسٹر سارکوزی نے مسٹر اولمرٹ اور مسٹر عباس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

کیا حماس کے بغیر کوئی معاہدہ ہو پائے گا؟

انہوں نے کہا کہ یورپ اور فرانس کی کوشش ہوگی کہ اقتصادی ترقی اور سیاسی پیش قدمیوں سے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور فریقین کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا کیونکہ اصل مسئلہ اعتماد کی کمی ہے۔

مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ ’ رکاوٹیں، مسائل اور اختلافات تو ہوں گے لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھے۔‘

مسٹر عباس نے کہا کہ قیام امن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اولمرٹ نے فلسطینیوں قیدیوں کو رہا کرنے پر اصولاً رضامند ہوگئے ہیں لیکن ان کی تعداد واضح نہیں کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی کا قیدیوں کے اس تبادلے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے بارے میں حزب اللہ اور حماس سے بات چیت چل رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ وہ شام کے ساتھ بھی براہ راست بات چیت چاہتے ہیں۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے ہے کہ قیام امن کی راہ میں دو بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ حماس سے اختلافات کی وجہ سے محمود عباس کے ہاتھ کمزور ہیں اور مسٹر اولمرٹ کو اپنے ملک میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔

جس نئی تنظیم کا اتوار کو افتتاح کیا گیا ہے اس میں یورپی یونین کے علاوہ شمالی افریقہ، بلقان، اسرائیل اور عرب دنیا کے ممالک شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد