غربِ اردن میں پانی کی شدید کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے حقوقِ انسانی کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ’امتیازی‘ پالیسیوں کے باعث غربِ اردن کو پانی کی انتہائی کمی کا سامنا ہے۔ بییتسیلم نامی گروپ نے اسرائیل کی طرف سے پانی کے مشترکہ وسائل کی تقسیم اور فلسطینی اتھارٹی پر عائد ان اسرائیلی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن کے تحت وہ نئے کنؤں کی کھدائی کر سکتے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے فلسطینوں کو معیشت اور صحت کے شعبے میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے جن کے اثرات بہت خراب ہوں گے۔ غربِ اردن میں پانی کا فی کس یومیہ استعمال تقریباً چھیالیس لیٹر ہے جو بین الاقوامی طور پر سفارش کردہ مقدار کا دو تہائی ہے۔ گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ علاقے میں کئی برسوں پر محیط خشک سالی کے اثرات آئندہ آنے والی مہینوں میں اور بھی شدت اختیار کر جائیں گے۔ اسرائیلی آباد کاروں کے لیے پانی کا فی کس استعمال فلسطینیوں کے مقابلے میں ساڑھے تین گنا زیادہ ہے۔ آبادی میں ہر شخص کتنی مقدار میں پانی استعمال کرتا ہے اس کا تخمینہ لگاتے وقت مویشیوں کو مہیا کیے جانے والے پانی کو حساب میں رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی حقوقِ انسانی کے گروپ کے مطابق غربِ اردن کے بعض شمالی حصوص میں جو خالصتاً زرعی علاقہ کہلاتا ہے پانی کا استعمال مجوعی اوسط سے کہیں کم ہے۔ حال میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں غزہ کی پٹی میں پانی کی قلت کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایندھن اور پرزوں کی کمی کے باعث پانی کے پلانٹ ٹھیک طور پر چل نہیں پاتے۔ رپورٹ کے مطابق غربِ اردن میں اسرائیل کی فوجی انتظامیہ نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اسرائیل میں پانی کی رسد پر مامور ادارے کے ترجمان کے مطابق ہر سال غزہ میں پانچ سو ملین کیوبک میٹر پانی فراہم کیا جاتا ہے جو سنہ انیس سو نوے میں ہونے والے امن معاہدے میں طے شدہ تفصیلات سے تیس فیصد زیادہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خود اسرائیل میں پانی کی فراہمی پر روک لگائی گئی ہے اور وہاں بھی پانی کی قلت ہے لیکن پھر بھی غربِ اردن میں فلسطینوں کو پانی کی فراہمی جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں غزہ سرحد ایک بار پھر بند26 June, 2008 | آس پاس ’حملے،جنگ بندی کی خلاف ورزی‘25 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||