BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 06:37 GMT 11:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عرب ملک فلسطین کی مدد کریں‘
کونڈولیزا رائس امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کو فلسطینیوں کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی لینی چاہیے۔

اگرچہ محترمہ رائس نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کیسے فلسطین کی زیادہ سے زیادہ مدد کر سکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔

مشرق وسطی میں امن کا عمل کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے اور کونڈولیزا رائس اس سلسلے میں بات چیت کے لیے لندن پہنچی ہیں جہاں انہوں نے عرب ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 فلسطینی ریاست کے وجود میں آنے کے لیے اسرائیل کو کچھ ’مشکل فیصلے‘ کرنے ہوں گے
امریکی وزیر خارجہ

محترمہ رائس برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشرق وسطی کے علاوہ ایران کے مسئلے پر بھی مذاکرات کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتیں امداد کرنے کا وعدہ کرتی ہیں تو انہیں اپنے وعدے پورے بھی کرنے چاہئیں۔

’جن ممالک کے پاس وسائل ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مدد کرسکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔‘

قیام امن کا عمل تعطل کا شکار ہے

محترمہ رائس کے وفد میں شامل عہدیداران کے مطابق اس برس صرف تین عرب ملکوں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے بڑے پیمانے پر فلسطین کی مدد کی ہے۔

رواں سال میں فلسطین کے لیے دنیا بھر سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے حاصل ہوئے تھے جن میں سے عرب لیگ کے ارکان نے سات سو سترہ ملین ڈالر کی اعانت کی پیش کش کی تھی۔ لیکن صرف ایک سو ترپن ملین ڈالر ہی فراہم کیے گئے ہیں اور وہ بھی ان تین ملکوں کی جانب سے۔

محترمہ رائس جلدی ہی غرب اردن اور یروشلم میں اسرائیل اور فلسطین کی قیادت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنے والی ہیں۔ لندن میں انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں یہودیوں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کا مطلب یہ نہیں کہ جب مشرق وسطی کا مستقل حل نکلے گا تو یہ مکان اسرائیل کے کنٹرول میں رہیں گے۔

واشنگٹن سے لندن روانہ ہونے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ نوجوان فلسطینیوں کی یہ امید اب ٹوٹ رہی ہے کہ اسرائیل سے ان کے تنازعہ کا حل نکل سکے گا۔ انہوں نے امریکی یہودیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کے وجود میں آنے کے لیے اسرائیل کو کچھ ’مشکل فیصلے‘
کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد