مصالحتی مذاکرات، حماس کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں شدت پسند تنظیم حماس نے اپنے سیاسی حریف فتح کے ساتھ مصالحتی مذاکرت میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات چیت دو روز بعد قاہرہ میں شروع ہونی تھی۔ رملہ سے نامہ نگار علیم مقبول کے مطابق حماس کا الزام ہے کہ فتح نے ابھی تک ان سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کیا ہے جنہیں اس نے غرب اردن میں قید کر رکھا ہے۔ گزشتہ برس کے پر تشدد واقعات کے بعد سے غرب اردن پر فتح کا کنٹرول ہے جبکہ غزہ میں حماس کی حکمرانی ہے۔ مصر دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی تجویز ہے کہ وہ ایک قومی حکومت تشکیل دیں۔ دمشق اور غزہ میں حماس کے اعلی رہنماؤں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ مذاکرات کا بائیکاٹ کریں گے کیونکہ بقول ان کے صدر محمود عباس کی جماعت فتح نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ جون دو ہزار سات کے بعد دونوں متحارب جماعتوں کےدرمیان پہلی مرتبہ مصالحتی مذاکرات ہونے والے تھے۔
نامہ نگاروں کے مطابق دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر خاموش کیا ہے۔ دونوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے آپسی جھگڑے سے فلسطینی جدوجہد کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے لیکن کسی نے بھی مصالحت کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس سے قبل صدر محمود عباس نے جب حماس کو بات چیت کی دعوت دی تھی تو ان کےقریبی ساتھیوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل حماس کو غزہ کا قبضہ چھوڑنا ہوگا۔ محمود عباس نے پچھلے سال حماس سے اس وقت تک بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا جب تک حماس غزہ کا قبصہ نہیں چھوڑتی۔ اس سے قبل سعودی عرب اور یمن کی طرف سے فتح اور حماس کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کئی ناکام کوششیں کی جاچکی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق یہ مذاکرات قومی حکومت کے قیام، سکیورٹی سروسز میں اصلاحات اور صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی مجوزہ تاریخوں پر تبادلہ خیال کی راہ میں ایک اہم قدم ہوتے۔ | اسی بارے میں محمود:حماس کو مذاکرات کی دعوت05 June, 2008 | آس پاس سینیگال: حماس اور فتح میں مذاکرات09 June, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت معطل04 July, 2008 | آس پاس فتح ارکان، اسرائیل کی اجازت 03 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||