فتح ارکان، اسرائیل کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح تحریک کے حامی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک سو اسی ارکان کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ فتح دھڑے سے تعلق رکھنے والے یہ ارکان حماس کے جنگجوؤں سے ایک دن کی شدید لڑائی کے بعد اسرائیل کی طرف پسپا ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق ان میں کچھ ارکان نے اسرائیل چوکی کی طرف آتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ان افراد میں شامل زخمیوں کو اسرائیل ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حماس اور فتح کے درمیان اس وقت جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں جب حماس نے فتح گروپ کے حامی ایک قبیلے کے گڑھ پر چھاپہ مارا تھا۔ حماس نے الزام لگایا ہے کہ فتح گروپ کے حامیوں نے ایک ہفتے قبل ایک بم حملہ کیا تھا جس میں ایک لڑکی اور حماس کے پانچ حامی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل فوج کے ایک کمانڈر کرنل رون ایشروف نے کہا کہ فتح کے حامیوں کو اس وقت اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی جب کچھ زخمیوں سمیت یہ نہال اوز کی سرحد کی طرف آئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فوجی جب اس سرحد پر باڑ کھولنے کے لیے گئے تو ان پر بھی حماس کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئی۔ اسرائیل میں داخل ہونے والے فتح کے حامیوں کے کپڑے اتروا کر اور ہاتھ کمر پر باندھ کر تلاشی لی گئی۔ کرنل ایشروف کے مطابق ان میں کم از کم بائیس افراد زخمی حالت میں تھے۔ اسرائیل نے سرحد کھولنے کا فیصلہ مصر اور صدر محمود عباس کے کہنے پر کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے دفتر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا تھا ۔ اطلاعات کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے حلس قبیلے کے گڑھ پر گرنیڈوں اور مارٹروں سے حملہ کر دیا تھا۔ حماس نے الزام عائد کیا تھا ان لوگوں نے حماس پر حملہ کرنے والوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیل: طلبا پر پابندی کی مذمت 04 June, 2008 | آس پاس غزہ سرحد ایک بار پھر بند26 June, 2008 | آس پاس غزہ کا راستہ کھولنے کا فیصلہ29 June, 2008 | آس پاس ’حملہ آور کے ساتھ کوئی نہ تھا‘03 July, 2008 | آس پاس پیرس اجلاس کے معاہدے پر اختلاف15 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||