BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیل انسانیت سوز ظلم ڈھا رہا ہے‘
قانا پر حملہ
قانا پر اسرائیلی حملے میں چّون لبنانی مارے گئے تھے
لبنان کی صورتحال پر بات چیت کے لیئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے خصوصی نمائندے نوہاد محمود نے سلامتی کونسل کے کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ’اسرائیل انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے اور جنگی جرائم کر رہا ہے‘۔

اجلاس میں فرانس نے فوری جنگ بندی کی قرارداد کا مسودہ بھی پیش کیا ہے۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس قانا پر اسرائیلی حملے میں چونتیس بچوں سمیت چوّن افراد کی ہلاکت کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس حملے کی سخت ترین انداز سے مذمت کرنی چاہیئے اور میں آپ سب سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ جنگ بندی کے معاملے میں میری سابقہ اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا اور جس کا نتیجہ معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلا‘ جبکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ’اگرچہ قانا میں مرنے والے اسرائیلی گولہ باری کا نشانہ بنے لیکن انہیں درحقیقت حزب اللہ نے نشانہ بنایا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ قانا بہت عرصے سے حزب اللہ کا گڑھ رہا ہے۔

جنگ بندی کے لیئے میری اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا: کوفی عنان

بین الاقوامی برادری کی جانب سے قانا پر حملے کی شدید مذمت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف مہم کی تکمیل کے لیئے مزید دو ہفتے درکار ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس سے بات چیت کے دوران ایہود اولمرت نے کہا کہ’ ہم اس وقت تک آپریشن جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک اس کے مکمل مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے‘۔

دریں اثناء فرانس کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے میں سلامتی کونسل سے’مظالم کے فوری خاتمے، مستقل فائر بندی کے لیئے حالات کی تشکیل اور مشرقِ وسطی کے حالیہ بحران کے دیرپا حل‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مسودے کے مطابق مستقل فائر بندی اور مشرقِ وسطی کے حالیہ بحران کے دیرپا حل کے لیئے ضروری ہے کہ پکڑے جانےوالے اسرائیلی فوجیوں کو فوراً رہا کیا جائے اور اسرائیلی قید میں موجود لبنانیوں کے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

مسودے میں اقوامِ متحدہ کی قردارد نمبر1559 اور 1680 اور معاہدۂ طائف پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ 1989 کے معاہدۂ طائف کے نتیجے میں ہی لبنان میں پندرہ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔ قرارداد میں بلیو لائن اور دریائے لتینی کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

قانا سے براہ راست
بی بی سی صحافی وویک راج نے قانا میں کیا دیکھا
پھر خون ہی خون
قانا میں قتل عام کی دوہری تاریخ
حقیقت یا واہمہ؟
’نئے مشرق وسطی‘ پر شکوک کا اظہار
جان لین کی ڈائری
عمان سے بیروت تک کا امدادی مشن
بیروتپناہ گزینوں کا شہر
بیروت کےسکولوں میں بے گھر خاندانوں کا حال
طائر میں تباہیایک پُر خوف دوڑ
تباہی سے تحفظ کے لیے ایک پُر خوف دوڑ تک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد