 | | | قانا پر اسرائیلی حملے میں چّون لبنانی مارے گئے تھے |
لبنان کی صورتحال پر بات چیت کے لیئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے خصوصی نمائندے نوہاد محمود نے سلامتی کونسل کے کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ’اسرائیل انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے اور جنگی جرائم کر رہا ہے‘۔ اجلاس میں فرانس نے فوری جنگ بندی کی قرارداد کا مسودہ بھی پیش کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس قانا پر اسرائیلی حملے میں چونتیس بچوں سمیت چوّن افراد کی ہلاکت کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس حملے کی سخت ترین انداز سے مذمت کرنی چاہیئے اور میں آپ سب سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ جنگ بندی کے معاملے میں میری سابقہ اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا اور جس کا نتیجہ معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلا‘ جبکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ’اگرچہ قانا میں مرنے والے اسرائیلی گولہ باری کا نشانہ بنے لیکن انہیں درحقیقت حزب اللہ نے نشانہ بنایا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ قانا بہت عرصے سے حزب اللہ کا گڑھ رہا ہے۔  | | | جنگ بندی کے لیئے میری اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا: کوفی عنان |
بین الاقوامی برادری کی جانب سے قانا پر حملے کی شدید مذمت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف مہم کی تکمیل کے لیئے مزید دو ہفتے درکار ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس سے بات چیت کے دوران ایہود اولمرت نے کہا کہ’ ہم اس وقت تک آپریشن جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک اس کے مکمل مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے‘۔ دریں اثناء فرانس کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے میں سلامتی کونسل سے’مظالم کے فوری خاتمے، مستقل فائر بندی کے لیئے حالات کی تشکیل اور مشرقِ وسطی کے حالیہ بحران کے دیرپا حل‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق مستقل فائر بندی اور مشرقِ وسطی کے حالیہ بحران کے دیرپا حل کے لیئے ضروری ہے کہ پکڑے جانےوالے اسرائیلی فوجیوں کو فوراً رہا کیا جائے اور اسرائیلی قید میں موجود لبنانیوں کے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ مسودے میں اقوامِ متحدہ کی قردارد نمبر1559 اور 1680 اور معاہدۂ طائف پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ 1989 کے معاہدۂ طائف کے نتیجے میں ہی لبنان میں پندرہ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔ قرارداد میں بلیو لائن اور دریائے لتینی کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ |