غزہ سیز فائر کا خاتمہ تباہ کن ہو گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مقیم امدای ادارے آکسففیم نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری تنظیموں کے درمیان سیزفائر کے خاتمے کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔ آکسفیم نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ ختم اور خوراک اور دیگر اشیاء کی سپلائی بحال کرنے پر مجبور کریں۔ آکسفیم کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر جیرمی ہوبز نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے خوراک، ادویات اور ایندھن کی سپلائی بلا تاخیر بحال کرے۔ ’اگر اسرائیلی اور فلسطینیوں نے کوئی گزشتہ جون کو کیے جانے والے سیزفائر کو بحال کرنے کی کوشش نہ کی تو اس کا نتیجہ غزہ اور اس کے نزدیک اسرائیلی قصبوں کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔‘ اس سے قبل اسرائیل نے شمالی غزہ میں کئی اہداف پر راکٹ داغے تھے۔ فلسطینی گروپ حماس نے بھی گزشتہ روز اسرائیلی قصبے اشخیلون پر پانچ راکٹ داغے۔ اسرائیل نے غزہ کے لیے انسانی امدادی اشیاء کا بدستور راستہ روکا ہوا ہے۔ حماس کے ایک ترجمان ایمن طٰہٰ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارے فوجی بازو عزالدین القاسم بریگیڈ نے مقبوضہ قصبے اشخیلون پر گیارہ راکٹ داغے ہیں کیونکہ ہمارے لوگوں پر صہیونی جارحیت بدستور جاری ہے اور اسرائیل نے سیزفائر کے لیے اپنے وعدے بھی پورے نہیں کیے۔ صہیونی دشمن نے سیزفائر کے معاہدے کے بعد نہ تو راہداریاں کھولیں، نہ محاصرہ اٹھایا اور نہ ہی جارحیت روکی ہے۔‘ ایمن طٰہٰ نے یہ بھی کہا کہ سیزفائر کے سمجھوتے پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری ثالثی کرانے والے ملک مصر پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے کہا تھا کہ غزہ کے سات لاکھ پچاس ہزار شہریوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کو ہفتے تک کے لیے معطل کرنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں ’غزہ میں خوراک کے بحران کا خدشہ‘12 November, 2008 | آس پاس غزہ، ایندھن کی جزوی فراہمی11 November, 2008 | آس پاس مشرق وسطٰی: مذاکرات ماسکومیں09 November, 2008 | آس پاس مصالحتی مذاکرات، حماس کا بائیکاٹ08 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||