غزہ پر پابندیوں سے بحران سنگین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں تیل کی سپلائی پر پابندی کی وجہ سے اسے مجبوراً علاقے میں امدادی کارروائیاں معطل کرنا پڑ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے تیل کی سپلائی پر عائد پابندی ختم نہ کی تو غزہ میں موجود ساڑھے چھ لاکھ پناہ گزینوں کو خوراک اور دیگر سہولیات جمعرات کے روز سے بند کرنا پڑیں گی۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اس بحران پر بات چیت کے لئے ایک اجلاس بلایا جس میں مغربی وفود لیبیا کی طرف سے ایک بیان کے بعد واک آؤٹ کر گئے۔ اس بیان میں لیبیا نے غزہ کو ایک نازی کیمپ سے تشبیہ دی تھی۔ اجلاس سے واک آؤٹ کرنے والے وفود میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور بیلجئیم شامل تھے۔ ادھر غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اپنی گاڑیوں کے لئے تیل کے ذخائر جمعرات کے روز تک ختم ہوجائیں گے۔ اسرائیل نے غزہ کے پاور پلانٹ تک تیل کی سپلائی کی اجازت دے دی ہے جس سے اس پلانٹ کے بند ہوجانے کاخطرہ ٹل گیا ہے۔ اس سے پہلے تیل کی سپلائی کی عبوری بحالی یورپی یونین کی کوششوں سے عمل میں آئی جو غزہ میں تیل کے اخرجات بھی اٹھاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے تیل کی محدود سپلائی کی پالیسی کا مقصد حماس کے راکٹ حملوں کو روکنا ہے جن میں حال میں کمی تو آئی ہے لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس پالیسی کو نہ قابل قبول قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ: ایندھن کی فراہمی کی اجازت23 April, 2008 | آس پاس غزہ: کراسنگ پوائنٹ پر جھڑپیں19 April, 2008 | آس پاس ’غزہ میں اسرائیلی کردار نازیوں جیسا‘08 April, 2008 | آس پاس غزہ، تین فلسطینی ہلاک22 April, 2008 | آس پاس غزہ:عسکریت پسند رہنما ہلاک15 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||