BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدترین حملے : اسرائیل کے مقاصد

غزہ
غزہ پر ہفتے کی رات گئے تک حملوں کو سلسلہ جاری تھا
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کوجس نوعیت کے اسرائیلی فضائی حملے ہوئے ہیں اس سے بدتر حملے انہیں یاد نہیں ہیں۔

اسرائیل کے طیاروں نے غزہ پر صبح سے شام تک حملے کیے اور پورے علاقے میں خوف اور افرا تفری کا ماحول پیدا کیا۔

ان حملوں میں حماس کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سکیورٹی مراکز ، سرکاری عمارتیں اور پولیس سٹیشن شامل تھے۔

حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر پولیس کے اہلکار تھے جس میں حماس پولیس کے چیف بھی شامل تھے۔

غزہ بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے اور حماس جن مقامات سے کام کرتی ہے ان کے آس پاس شہریوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔

مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو تہائی تعداد شہریوں کی ہو سکتی ہے۔

غزہ کے ہسپتالو کا منظر خوف ناک اور درد ناک ہے۔ مردہ گھر بھرے ہوئے ہیں، لاشیں راہداریوں میں ایک کے اوپر ایک لدی ہوئی ہیں اور کچھ سڑکوں پر بھی پڑی ہوئی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں جن کی حالت نازک ہے ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ ان کے پاس اتنی آپریشن ٹیبلیں موجود نہیں ہیں۔

سنیچر کی شام اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے جب غزہ کے شہریوں سے سیدھے خطاب کیا اور کہا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ وہ اس قسم کے حلات سے گزریں اور سرائیل کا دشمن حماس ہے نہ کہ غزہ کے عام شہری تو ان کے بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں دو تہائی تعداد شہریوں کی ہو سکتی ہے

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی جانب سے بار بار راکٹ اور مارٹر سے کیے گئے حملوں کو روکنے کے لیے وہ مجبور ہوگئے تھے۔

ادھر فلسطینیوں نے اسرائیل کی جانب سے کی گئی کاروائی کو یک طرفہ بتایا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے بیشتر راکٹ جان لیوا نہیں تھے لیکن انہیں تیار اس غرض سے ہی کیا گیا تھا۔

غزہ کے قریب رہنے والے تقریباً ڈھائی لاکھ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ خوف کے سائے میں جیتے ہیں اور اکثر بم حملے سے بچنے والے مقام کے قریب ہی رہتے ہیں۔

بیشتر اس بات سے خوش ہیں کہ آخر کار ان کی حکومت سخت کاروائی کر رہی ہے لیکن انہیں حماس کے ردعمل کا خوف بھی ہے۔

حماس کے فوجی ونگ نے دھمکی دی ہے کہ اب سخت کاروائی کی جائے گی اور بقول ان کے دوزخ کے سارے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ تحریک کے جلا وطن سیاسی رہنما خالد میشال نے تیسری پر تشدد فلسطینی تحریک کی کہ کال دی ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اتنی سخت کاروائی اس وقت کیوں ہو رہی ہے؟

کیا انہیں یقین ہے کہ غزہ کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ حملوں کو روکا جا سکے گا جبکہ پچھلی اسرائیلی حکومت اس سمت میں ہر قسم کی فوجی کاروائی کے بعد ناکام رہی ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ سرحد کے قریب رہنے والے اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان کے وزیر دفاع ایہود براک کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کے خلاف سخت کاروائی جاری رکھےگا۔

لیکن اسرائیل کے سیاست دان ایک دوسری مہم شروع کرنے پر بھی زور دے رہے ہيں اور وہ ہے انتخابی عمل۔

اسرائیل میں صرف ایک مہینے کے اندر ہی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔

اسرائیل کے عوام اپنی حکومت کی جانب سے حماس کے کنٹرول والے غزہ کے سلسلے میں کیے گیے اقدامات سے خوش نہیں ہے۔

حماس اور اسرائیل دونوں نے ہی مزيد پر تشدد کاروائی کرنے عہد کا کیا ہے

جب تک خزب اختلاف کے رہنما بنایمن نتن یاہو سخت لہجے کا استعمال نہیں کر رہے تھے وہ انتخابات میں آگے تھے لیکن اب برابری کا مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل کی فوج حماس کے اسلحہ اور راکٹ لانچرز کو پوری طرح سے ختم کرنا چاہتی ہے۔

حماس نے جب اٹھارہ مہینے پہلے غزہ کا اندرونی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا تھا اس وقت سے اسرائیل ایک بڑی سطح پر فوجی کاروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ اس سمت میں کس طرف جا رہا ہے۔

اسرائیل کے سیاسی حلقے یہ نہیں چاہتے کہ ان کے فوجیوں کی مزید ہلاکتیں ہوں لیکن وہاں کی فوج نے اسرائیل کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ بار بار حملے کیے جائیں لیکن کم نوعیت کے۔

اسرائیل کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم حماس کو ایک لمحے کا بھی سکون نہیں دینا چاہتے ۔

اسرائیل سے باہر امریکہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی اسرائیل پرواہ کرتا ہے اور امریکہ اسرائیلیوں کو شہ دیتا ہے۔

اسرائیل میں امریکہ کے نو منتخب صدر براک اومبا کو فلسطینیوں کے حامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سنيچر کو حماس اور اسرائیل دونوں نے ہی مزيد پر تشدد کاروائی کرنے عہد کا کیا ہے۔

پچھلے ہفتے تک سرحد کے دونوں جانب فوج کی تعداد کم تھی لیکن اس حملے کے بعد اگر دونوں کو یہ لگتا ہے کہ فوج کی تعیناتی ان کے مفاد میں ہے تو امید کی جا رہی ہے کہ اب فوج کی تعیناتی مستقل ہو جائے گی۔

لیکن فی الوقت غزہ سرحد کے دونوں جانب کی گلیوں میں عجیب سے خاموشی ہے کیونکہ اسرائیل اور غزہ دونوں کے ہی شہری اپنے گھروں میں اس ڈر کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ کل کیا ہوگا؟

غزہغزہ کی ناکہ بندی
غزہ: ’بد ترین حالات‘، عرب ممالک پر تنقید
’ناتجربہ کار‘ لیونی
موساد کی ایجنٹ قدیمہ کی سربراہ
 اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بین تقسیم کے ساٹھ سال
فلسطینی پناہ گزین آج بھی انتظار میں ہیں
’لبنان جنگجنگ کیوں کی؟
’لبنان جنگ ایک بڑی اور سنگین ناکامی‘
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
ایریہ ہینڈلراسرائیل کے ساٹھ سال
میں وہاں موجود تھا: 93 سالہ ایریہ ہینڈلر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد