BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 06:42 GMT 11:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غریب ممالک کی مدد کریں: یو این
 اقوام متحدہ کے سیکرٹی جنرل بان کیمون
حصص کی قیمتیں تیسرے روز بھی متاثر ہوئی ہیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے عالمی اقتصادی بحران سے غریب ملکوں کے لیے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف اور بڑے ممالک کے مرکزی بینکوں کو غریب ممالک کو قرضے دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو موجودہ اقتصادی بحران دنیا کے غریب لوگ شاید زندہ نہ بچ سکیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سربراہوں کے ساتھ ایک ملاقات میں سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہا کہ غریب ممالک کو بھی ان ہی مشکلات کا سامنا ہے جن کا امریکہ اور یورپ کر رہے ہیں۔

سیکریٹری جنرلبان کیمون نے کہا کہ اگر غریب ملکوں کی مدد نہ کی گئی تو اب تک حاصل کی جانے والی ترقی اور بیماریوں اور غربت کے خاتمے کی مہم میں کامیابیں سب بےکار ہوجائیں گی۔

دریں اثناء ایشیائی ممالک اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے اپیل کی ہے کہ عالمی اقتصادی نظام میں استحکام لانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایشیائی ممالک اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایک ہنگامی اجلاس کے دوسرے دن موجودہ عالمی اقتصادی بحران پر گفتگو جاری رکھا۔ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ ماہ بیس بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس سے قبل ایک متفقہ لائحۂ عمل تیار کیا جاسکے۔

بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم بھی شریک ہورہے ہیں۔ اس اجلاس میں کل تینتالیس ممالک کے رہنما شامل ہیں۔ اجلاس کے دوسرے دن یعنی سنیچر کو ان رہنماؤں کے ایک بیان کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بحران سے مشکل میں پھنسنے والے ممالک اگر مدد کی اپیل کریں تو آئی ایم ایف ان کی مدد کرے۔

مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شریک ہونے والے رہنما عالمی مالی اور اقتصادی نظام میں مؤثر اور جامع اصلاحات کی ضرورت سمجھتے ہیں۔

جمعہ کے روز عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشے کی وجہ سے دنیا بھر کےحصص بازار انتہائی مندی کا شکار ہوگئے۔

امریکہ میں وال سٹریٹ کھلنے کے ساتھ ہی مندی کا شکار ہوگئی۔ ڈاؤ جونز مارکیٹ کھلنے کے پہلے پانچ منٹ میں پانچ فیصد گر گئی جبکہ نسدک چھ فیصد گرگئی۔ یورپی بازار حصص میں لندن سٹاک مارکیٹ دوپہر تک چھ فیصد گر چکی تھی جبکہ فرینکفرٹ بازارِ حصص آٹھ فیصد گر گئی۔

ایشیا کی مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ ایشیا میں جاپان کی سٹاک مارکیٹ نِکی میں نو اعشاریہ چھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جو کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ الیکٹرانِک کمپنی سونی نے اپنے منافع کے تخمینے میں پچاس فیصد کمی کردی ہے۔

ایشیا کے تمام بازاروں میں حصص کی قیمتوں کے گرنے کا رجحان جاری رہا۔ ہانگ کانگ میں سات اعشاریہ تین فیصد، سنگاپور میں سات اعشاریہ پانچ فیصد، ممبئی میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد اور سِڈنی میں دو اعشاریہ سات فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔

 ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں امریکی ڈالر کا اثر و رسوخ کم ہی ہوگاڈالر کی موت؟
ڈالر – دنیا کی کرنسی، امریکہ کا مسئلہ
ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
امریکی مالی بحران
امریکی پیکج، اعتراضات اور مستقبل
یہ امریکہ ہے
ٹیکسوں میں اور کمی، اخراجات میں اور زیادتی
غیر یقینی صورتحال
ایشیائی، یورپی شیئر بازار میں ملا جلا رجحان
اسی بارے میں
چینی معیشت کو بھی خطرہ
20 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد