BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 01:27 GMT 06:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حصص:پہلے مندی پھر کچھ بہتری
مندی کا آغاز ایشیائی منڈیوں سے ہوا جس کے بعد یورپی ،امریکی اور لاطینی امریکی منڈیوں میں بھی یہی رجحان رہا
عالمی مالیاتی اداروں پر سرمایہ کاروں کے عدم اطمینان کے بعد ایشیا اور یورپ کے بازارِ حصص میں پیر کو بڑے پیمانے پر ہونے والی گراوٹ کے بعد منگل کو ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

لندن کے فٹسی ہنڈرڈ انڈیکس میں کاروبار کے آغاز میں بہتری دیکھنے میں آئی تاہم جلد ہی بازار مندی کا شکار ہوگیا۔

لندن سٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے دوران رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کے حصص میں سترہ فیصد اور ایچ بی او ایس کے حصص میں سولہ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ایک موقع پر رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کے حصص چالیس فیصد تک گر گئے تھے تاہم بعد ازاں ان میں کچھ بہتری ہوئی۔

لندن کے بازارِ حصص میں منگل کو مجموعی طور پر قریباً ایک فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ گزشتہ روز فٹسی ہنڈرڈ انڈیکس میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ سن انیس سو ستاسی کے بعد سے ایک دن ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

لندن کے علاوہ فرانسیسی بازارِ حصص میں بھی منگل کو ایک اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم سب سے مثبت خبر آسٹریلوی بازارِ حصص سے آئی جہاں حکومت کی جانب سے شرحِ سود میں ایک فیصد کی کمی کا مثبت اثر سٹاک مارکیٹ پر پڑا۔

ایشیائی مارکیٹوں میں سے جاپان کی سٹاک مارکیٹ میں منگل کے روز جب کاروبار کا آغاز ہوا تو شروع ہی سے مندی دیکھنے آئی اور انڈیکس پانچ فیصد کی کمی کے بعد دس ہزار پوائنٹ کی نفسیاتی حد سے نیچے چلا گیا۔ تاہم بعد ازاں انڈیکس میں دو فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی۔گزشتہ پانچ سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جاپانی سٹاکس انڈیکس دس ہزار کی حد سے نیچے گیا ہو۔

پیر کے روز پانچ فیصد کی گراوٹ دیکھنے کے بعد چین کے حصص بازار میں کاروبار کے آغاز میں ہی مزید تین فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

ادھر منگل کو ہی یورپی ممالک کے وزرائے خزانہ کا ایک ہنگامی اجلاس لگسمبرگ میں ہو رہا ہے جس میں مالی بحران کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی۔

دنیا بھر میں حصص کی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی گراوٹ کے باعث کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پیر کو بھی مندی کا آغاز ایشیائی منڈیوں سے ہوا تھا جس کے بعد یورپی ،امریکی اور لاطینی امریکی منڈیوں میں بھی یہی رجحان رہا۔ حصص کی امریکی منڈی وال سٹریٹ کے ڈاؤ جونز انڈیکس میں تین سو ستر پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس سن دو ہزار چار کے بعد پہلی بار دس ہزار پوائنٹس سے کم سطح پر بند ہوا۔

پیر کو سعودی عرب کے بازار حصص میں، جو خلیجی ممالک میں سب سے بڑا حصص بازار ہے، نو فیصد کی گرواٹ ہوئی جبکہ دبئی کے حصص بازار میں ساڑھے چار فیصد ابو ظہبی اور قطر کے حصص بازار میں چار فیصد ،کویت میں ساڑھے تین فیصد اور عمان کے بازار میں چھ فیصد کی گرواٹ آئی۔

ادھر تیل کی عالمی منڈی میں اسی سال چھبیس جولائی کو تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس اعشاریہ دو سات ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ بلندی کے بعد نیچے آنا شروع ہوئی تھی اور گیارہ جولائی 2008 کو ایک بیرل تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر تھی جو اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی سب سے زیادہ قیمت تھی اور اب عالمی بازارمیں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد تیل نوے ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگيا ہے جوگزشتہ آٹھ ماہ میں تیل کی قیمتوں میں یہ سب سے زیادہ کم قیمت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد