امریکہ: 700ارب کا بیل آؤٹ بل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوان نمائندگان نے بھی مالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے بیل آؤٹ بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ نے ملک کے مالیاتی اداروں میں جاری بحران سے نمٹنے کے لیے مذکورہ بالا بیل آؤٹ بل کے ترمیم شدہ پیکیج کی منظوری دے دی تھی۔ بِل کو سینیٹ میں پچیس کے مقابلے میں چوہتر ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا۔ سینیٹ میں منظوری سے پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ نہ صرف سینیٹ امدادی بل کی منظوری دے گا بلکہ اس کے نتیجے میں ایوان نمائندگان بھی بل کو منظور کر لے گا۔ ایوانِ نمائندگان نے اس سے پہلے اس بل کو مسترد کردیا تھا اور اس پر اعتراض کیا گیا تھا کہ مالیاتی اداروں کو اس طرح امداد فراہم کر کے بچانا ٹیکس دہندگان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جس کے بعد بل میں ترامیم کی گئیں جن میں خاص طور پر مالیاتی اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ افسروں کی تنخواہوں کو محدود کیا گیا خاص طور پر اس وقت جب وہ کسی ادارے سے رخصت ہوں۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کی بچتوں پر حکومت کی ضمانت کی حد کو ایک لاکھ ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر کر دی گئی۔ |
اسی بارے میں منصوبہ نامنظور، مارکیٹوں کا بُرا حال29 September, 2008 | آس پاس ’امریکہ کا بہت نقصان ہوگا‘ 30 September, 2008 | آس پاس دنیا میں ہر جگہ مندی ہی مندی29 September, 2008 | آس پاس امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||