BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ کا بہت نقصان ہوگا‘
دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے
امریکہ کے صدر بش نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے موجودہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیئے تو اس کے امریکی معیشت پر بہت دور رس اور انتہائی مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر بش نے منگل کو ایک تقریر میں کہا کہ وہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ معیشت کا پہیہ گھومتا رہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے سوموار کو ان کے سات سو ارب ڈالر کے مالیاتی پلان کو رد کردیا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ملک کے مالیاتی اداروں کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

کانگریس کی طرف سے اپنے پلان کے رد کیئے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک دن میں حصص بازار میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر امریکی عوام کو اور بالعموم دنیا بھر کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کے اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے تجویز کردہ اقدامات پر سیاسی تعطل پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ہنگامی صورت حال سے دو چار ہیں اور اگر ہم نے جلد اقدامات نہ کیئے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے نقصانات بڑھتے جائیں گے۔‘

صدر بش نے مزید کہا کہ اگر کانگریس کوئی اقدام نہ کرسکی تو امریکہ کو پہنچنے والا مالیاتی نقصان انتہائی تکلیف دہ اور دائمی ہو گا۔

یاد رہے کے سوموار کو نیویارک میں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایورج میں سات سو پوائنٹس کی تاریخی کمی ہوئی تھی۔ سوموار کو انڈیکس میں 777 پوائنٹس کی کمی ہوئی جو ایک دن میں ڈاؤ جونز کا سب سے زیادہ نقصان ہے۔

صدر بش کے مالیاتی پلان کی کانگریس میں ناکامی کے بعد یورپ میں بھی منگل کو حصص بازاروں میں کاروبار انتہائی متزلزل رہا۔

امریکہ میں ایوان نمائندگان کی طرف صدر بش کے سات سو ارب ڈالر کے پلان کو رد کیئے جانے کے بعد لندن میں حصص بازار ’فٹسی ہنڈر انڈکس‘ ابتداء میں تین فیصد گرا لیکن بعد میں اس میں صرف اعشاریہ تین فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی۔

ایشیا کے تمام بڑے بڑے بازاروں میں منگل کو شدید مندی دیکھنے میں آئی۔

اس منصوبے کےامریکی قانون سازوں کی طرف سے رد کیئے جانے کے بعد عالمی مالیاتی منڈی میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

برطانیہ میں لندن کے حصص بازار فٹسی میں برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق دن کے ایک بجے تک صفر اعشاریہ تین فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی، جرمنی کی شیئر مارکیٹ صفر اعشاریہ سات فیصد کم ہوا، اور فرانس کے حصص بازار میں بھی صفر اعشاریہ تین فیصد کی بہتری ہوئی۔

لندن میں بینکوں کے شیئرز پر سب سے زیادہ اثر پڑا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ میں بش کے پلان کی ناکامی کے بعد اس کے بین الاقوامی طور پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھے۔

ایچ بی او ایس کے شیئرز دس فیصد کم ہوئے جبکہ رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کے شیئرز میں چھ فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

جاپان کی حصص مارکیٹ نکی انڈکس منگل کو چار اعشاریہ ایک فیصد کی کمی پر بند ہوئی جبکہ ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ میں صفر اعشاریہ آٹھ فیصدہ کا اضافہ ہوا۔

روس کے دو بڑے حصص بازاروں میں کاروبار کو مندی کی وجہ سے دو مرتبہ معطل کرنا پڑا۔

جمہوریہ آئرلینڈ میں حکومت کا اعلان کرنا پڑا کہ اگلے دو برس تک تمام بینکوں کے کھاتوں کو گارنٹی مہیا کر دی گئی ہے۔

یورپ کے ایک بڑے بینک ڈیکسیہ کو بچانے کے لیے بیلجیئم ، فرانس اور لگسمبرگ کی حکومتوں نے مشترکہ طور پر چھ اعشاریہ چار ارب یورو فراہم کیئے۔

بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ جب سے قرضوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ شروع ہوا ہے تب سے اب تک عالمی مالیات کی دنیا میں پیر کا دن بدترین دن ثابت ہوا ہے۔

گزشتہ روز امریکہ میں سیاست دانوں کے درمیان ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے صدر بش کے تجویز کردہ ریسکیو پیکج کے حتمی مسودے پر معاہدہ طے پانے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ پیر کو مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا جائے گا۔

اسی بارے میں
پیکج منظور ہو جائے گا: بش
27 September, 2008 | آس پاس
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد