مالیاتی منصوبے پر’مزید کام درکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے پیش کیے جانے والے سات سو ارب ڈالر کے مجوزہ ہنگامی منصوبے پر امریکہ میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ صدر بش سے کئی گھنٹے بات چیت کے باوجود کانگریس کے ریپبلکن ممبران کے اس منصوبے پر خدشات برقرار ہیں اور یہ ممبران جمعہ کو ایک مرتبہ پھر اس منصوبے پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔ صدر بش سے ملاقات سے قبل سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر کرسٹوفر ٹاڈ نے کہا تھا کہ بنیادی منصوبے پر اصولی اتفاقِ رائے ہو گیا ہے تاہم ملاقات کے بعد اس کمیٹی میں شامل اہم ریپبلکن سینیٹر رچرڈ شیلبی نے کہا کہ ’میں نہیں مانتا کہ ہم کسی معاہدے پر متفق ہو سکے ہیں‘۔ صدر بش سے بات چیت کے بعد ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ منصوبے پر کام اس کی منظوری کے لیے دی جانے والی جمعہ کی ڈیڈ لائن تک بھی مکمل نہ ہو سکے۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کی جانب سے مالیاتی اداروں کے ’ڈوبے ہوئے قرضے‘ خریدنے کے منصوبے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما ہیری ریڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ کانگریس کے ارکان اس پر کام کر رہے ہیں۔ بات آگے تو بڑھی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے معاملات پر کام اور بات کرنا باقی ہے‘۔ کچھ ریپبلکن سینیٹرز کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص کردہ رقم بہت زیادہ ہے اور اس پر عملدرآمد سے امریکی حکومت کا مالیاتی مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ عمل دخل ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ جمعرات کو امریکہ کے صدر جارج بش نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ان کے مجوزہ سات سو ارب ڈالر کے ایمرجنسی پیکج کو سینیٹ سے منظوری نہیں ملتی ہے تو امریکہ میں پیدا ہوئے اقتصادی بحران کا حل مشکل ہو گا۔ ایک طویل وقفے کے بعد امریکی عوام سے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ یہ تجویز نہ صرف اقتصادی بحران کا شکار کچھ کمپنیوں کو بچانے کے لیے پیش کی گئی ہے بلکہ اس کا مقصد امریکہ کے اقتصادی نظام کو سنبھالا دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ اقتصادی بحران سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کے کچھ حصے کام نہيں کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس امریکہ، بینکوں کا سٹیٹس تبدیل22 September, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس ’غیر معمولی‘ اختیارات کا تقاضا21 September, 2008 | آس پاس اربوں ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز20 September, 2008 | آس پاس امدادی فنڈ کی خبر، بازار میں تیزی19 September, 2008 | آس پاس مالی بحران کا دائرہ پھیل رہا ہے18 September, 2008 | آس پاس سٹاک پر زوال، سرمایہ کار پریشان 17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||