مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی امریکہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ٹیلیویژن پر اپنے خطاب میں ہنری پالسن کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کو بھی اپنے مالیاتی اداروں کے لیے ویسے ہی امدادی منصوبے بنانے چاہیئیں جیسا کہ امریکہ میں زیرِ غور ہے۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے بھی اپیل کی وہ سات سو ارب ڈالر کے منصوبے کی جلد از جلد منظوری دے۔ یاد رہے کہ بش انتظامیہ نے امریکی مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے امدادی منصوبہ کا مسودہ سنیچر کو کانگریس کے سامنے پیش کر دیا تھا جس میں حالیہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی اختیارات‘ کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی وزیرِ خزانہ کو آئندہ دو برس کے لیے بحران کا شکار بینکوں سے ان کے ڈوبے ہوئے مارگیج قرضے خریدنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے استعمال کا کل اختیار دے دیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزیرِ خزانہ کا کوئی بھی عمل کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ امریکی صدر جارج بش نے سنیچر کو ہی ایک ریڈیائی خطاب میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکس دہندگان پر یہ بوجھ ڈالنے کی قیمت اس قیمت سے کہیں بہتر ہے جو ملازمتوں کے خاتمے اور خراب ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس کی صورت میں ادا کرنی پڑتی۔ ادھر کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر چارلس شومر نے کہا ہے کہ امریکی پارلیمان اس منصوبے کو جلد از جلد منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس منصوبےسے مالیاتی اداروں کی مدد تو ہو گی مگر اس میں ٹیکس دہندگان اور گھروں کے مالکان کو کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے بھی کہا ہے کہ ڈیموکریٹ بش انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس بحران سے جلد از جلد نمٹنے کے لیے کام کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کم اور اوسط آمدن والے امریکیوں کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ایک ایسا پیکج لایا جائے جس کے نتیجے میں نوکریاں پیدا ہوں اور ملک کی معاشی ترقی دوبارہ شروع ہو۔ یاد رہے کہ امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اب مزید خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تیزی سے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ |
اسی بارے میں اربوں ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز20 September, 2008 | آس پاس امدادی فنڈ کی خبر، بازار میں تیزی19 September, 2008 | آس پاس اے آئی جی کے لیے پچاسی ارب ڈالر17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||