اے آئی جی کے لیے پچاسی ارب ڈالر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزور کی طرف سے دنیا کی ایک بہت بڑے انشورنش گروپ امریکن انٹرنیشنل گروپ کو بچانے کے لیے پچاسی ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے آئی جی جس کے دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کے اثاثے ہیں اور وہ دنیا بھر میں بینکوں کے قرضوں کے لیے انشورنش فراہم کرتا ہے۔ اس گروپ کو بچائے جانے کی خبروں کے ساتھ ہی حصص بازاروں میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اے آئی جی کو پچاسی ارب ڈالر کے عوض مرکزی بینک اس کے اسی فیصد مفادات کا حق دار بن گیا ہے۔ اسی دوران برطانیہ کے بارکلیز بینک نے لیہمن برادرز کے شمالی امریکہ میں بینکنگ اور مالیاتی منڈی میں بزنس کو خریدنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کافی حد تک بحال ہوا ہے۔
اس سے قبل امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزور نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے شرح سود کو تبدیل نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسے دو فیصد پر ہی رہنے دیا تھا۔ شرح سود میں تبدیلی نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی بینک نے کہا کہ ان کے سامنے افراط زر ایک اہم مسئلہ تھا۔ مبصرین نے کہا کہ مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ ان سرمایہ کاروں کے لیے مایوسی کا باعث ہے جو شرح سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔ امریکہ کے چوتھے بڑے بینک لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے کی درخواست دینے کے دوسرے دن منگل کو دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان رہا اور حصص کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی۔ سب سے زیادہ کمی بینکوں کے حصص کی قیمتوں میں ہوئی۔
البتہ نیویارک میں ڈاؤ جونز میں منگل کو ابتداء میں ایک سو پوائنٹس کی کمی ہوئی لیکن بعد میں مارکیٹ سنبھل گئی اور ایک سو اکتالیس پوائنٹس کے اضافے سے بند ہوئی۔ حصص کا کاروبار کرنے والوں نے مرکزی بینک کے فیصلہ کو اس بات کا غماز قرار دیا کہ ملکی معیشت اتنی بری حالت میں نہیں جتنا خیال کیا جا رہا تھا۔ اے آئی جی دنیا بھر میں بہت سے بینکوں کو گھروں کے لیے دیئے جانے والے قرضوں کو انشورنش فراہم کرتا ہے اور یہی قرضے گزشتہ ایک سال کے سے جاری مالی بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔ تاہم دنیا کے حصص بازاروں میں گزشتہ دو دن سے جاری ہیجان بدھ کے روز کم ہوتا ہوا نظر آیا۔ مشرقی بعید کے ممالک میں حصص بازار میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ ٹوکیو کے حصص بازار میں ابتدائی ٹریڈنگ میں دو فیصہ اضافہ ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||