BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ میں آسمان گر گیا‘

بعض مبصرین کے مطابق 1930کے بعد امریکہ کا یہ سب سے بڑا اقتصادی بحران ہے-
’کونسا آسمان گرگیا‘ اردو یا انگریزی میں یہ محاورہ ہو تو ہو لیکن امریکہ میں یہ سچ ثابت ہوتا ہے جب نیویارک میں امریکہ اور شاید دنیا کے بھی سب سے بڑے کاروباری مرکز وال سٹریٹ میں امریکہ کے سب سے پرانے اور بڑے انویسٹمنٹ گروپ ’لیہمن برادرز‍‘ کا راتوں رات دیوالیہ ہوجاتا ہے-

امریکی تاریخ میں کہتے ہیں کہ انیس سو تیس کی دہائي کی سب سے بڑی کساد بازاری کے بعد امریکہ کا یہ سب سے بڑا اقتصادی بحران ہے-

لیکن اقتصادیات کے پنڈت تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انیس سو تیس کے’ڈپریشن‘ کے دنوں میں تو لیہمن برادرز کو ڈوبتے ہوئے کو ایک کاروباری فرم ’پالکی‘ نے خرید لیا تھا لیکن اب کے تو لیہمن برادرز ٹائيٹنک جہاز کی طرح ڈوبتے ڈوبتے دو تین اور بڑے بینک بھی ساتھ لے گيا ہے-

ٹی وی پر ایک معاشی ماہر کہہ رہے تھے کہ یہ امریکی لوگوں کےلیے بینکوں میں پیسے یا اپنی عمر بھر کی کمائی کو سرمایے کے طور پر رکھوانے کےلیے اچھے دن نہیں‎ ہیں- سمجھ لیں کہ وہی دن امریکہ میں آئے ہیں جب پاکسان میں نواز شریف کی حکومت تھی اور صدر غلام اسحاق خان اپنے ملنے والے لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ اگر وہ صحیح حقیقت بیان کریں تو لوگ بینکوں میں اپنے پیسے رکھوانا چھوڑ دیں۔ امریکی انویسٹمنٹ بنکوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔

لیہمن برادرز امریکہ میں گھروں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا انویسٹمنٹ ادرہ تھا جس میں وال سٹریٹ کی بڑی بڑی فرموں اور افراد نے اربوں ڈالر کا سرمایہ لگا رکھا تھا-

پچھلے سالوں سے مارٹگیج مارکیٹ میں بڑھتی ہوئي قیمتوں کے سبب مارٹگیج کی ادائیگیوں کے توازن میں ایسا ایک بڑا بحران آیا ہوا ہے جس کے تحت گھروں کی قییمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اور لاکھوں لوگ امریکہ میں اپنے گھروں کی بڑھتی ہوئی مارٹگیج ادا نہ کرسکے تو قرضہ دینے والی کمپنیوں اور بینکوں نے اپنی بگڑتی بنک شیٹوں کے سبب فور کلوزر لگا دیئے۔

مارٹگیج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کی عدم ادائیگي کی صورت میں بہت سے لوگوں کو امریکہ میں بے گھر ہونا پڑا ہے-

پاکستان جیسی صورتحال
 امریکہ میں آجکل ایسے دن ہیں جب پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی اور صدر غلام اسحاق خان اپنے ملنے والے لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ اگر وہ صحیح حقیقت بیان کریں تو لوگ بینکوں میں اپنے پیسے رکھوانا چھوڑ دیں۔ امریکی انویسٹمنٹ بنکوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔

مارٹگیج انڈسٹری میں بحران اتنا بڑھا کہ حکومتی اور عدالتی احکامات میں ایسے بھی گھر ریئل سٹیٹ کی فہرستوں میں ہیں جن کی قمیت کوڑیوں کے بھاؤ چند سو ڈالر بھی لگی۔ فور کلوزر کو دیکھتے ہوئے ایک امریکی اخبار نے کارٹون شائع کیا تھا جس میں وائٹ ہاؤس کی عمارت پر ان لفظوں کی تختی لگی تھی:’وائیٹ ہاؤس آن سیل‘۔

آج پندرہ ستمبر کی صبح لہمین برادردز نے دیوالیہ قانون کے تحت خود کو دیوالیہ قرار دلوانے کی درخواست دی اور یہ خبر جنگل کی آگ سے بھی تیزی کی طرح نیویارک کی سٹاک مارکیٹ سے لیکر دنیا کی مارکیٹوں تک پھیل گئی اور دیکھتے دیکھتے آسٹریلیا سمیت بڑی سرمایہ کار کمپنیوں نے لیمن برادرز سے اپنے کنٹریکٹ ختم کردیئے۔

لمین برادرز نےاپنی دیوالیہ کی اپنی درخواست میں کہا کہ ہے کہ اسں پر تین سو انتیس بلین ڈالر کا قرض ہے جبکہ اس کے اثاثے تیس سو انسٹھ بلین ڈالر کے ہیں- دیکھتے ہی دیکھتے نیویارک کی سٹاک مارکیٹ میں ایسی مندی آئی جو امریکی تاریخ میں ڈپریشن کے بعد کبھی نہیں آئی۔

امریکی میڈیا نے اسے ’آسمان کے گرنے‘ سے تعبیر کیا۔ کئی سرمایہ کار کمپنیاں اور فنانشل سروسز فرموں کی نبضیں ڈوبنے لگی ہیں۔برصغیر میں پرانے زمانوں میں جب بنیہ (بنیہ کسی مذہب قوم رنگ و نسل کا نام نہیں) دیوالیہ ہو جاتا تھا تو اس کے اعلان کے طور پر دن کو بھی اپنی دکان کے اوپر 'دیوا یا دیپ جلاکر رکھتا تھا- شاید ایسے دیوالیہ بنیوں کو دیکھ کر ہی عظیم صوفی پنجابی شاعر وارث شاہ نے کہا ہوگا’ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نت جلے‘۔

ایک اور بڑی کمپنی ڈاؤجونز لہیمن برادرز کے دیوالیے کے اعلان کے بعد وال اسٹریٹ میں 500 پوائنٹس پر بند ہوئی جو کہتے ہیں کہ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشتگردانہ حملوں کے بعد بدترین مندی ہے-

امریکی اقتصادیات کا برا حال تو اسوقت سے دیکھنے میں آ رہا ہے جب سے مارٹگیج مارکیٹ میں ’فور کلوزرز‘ ہونےلگا ہے ۔

لیکن لیہمن برادرز جیسی کمپنیاں وال سٹریٹ کے وہ بیل نہیں جن کے سینگوں پر امریکہ کھڑا ہے۔

امریکہ سستی محنت میں دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کا متوسط اور منحت کش طبقے اس سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کئي دن قبل میرے نیوجرسی میں ایک دوست نے کہا تھا 'ہم نیویارک اور نیو جرسی میں گيارہ برس رہنے کے بعد اب ہیوسٹن جا رہے ہیں کہ وہاں گھر اور زمین سستی ہے- تیس ایکڑ پندہ ہزار ڈالر میں ہے-‘

ہفت روزہ اکانومسٹ کے مطابق امریکہ کا ابتر حال اس لیے ہے کا امریکہ دو جنگیں لڑ رہا ہے-

’ایک امریکی ماہر اور اقتصایات کے پروفیسر نے کہا ہے کہ یہ جنگیں ’تین ٹریلین ڈالر کی ہیں-‘

بحرحال، امریکہ میں صدارتی انتخابات میں جنگ سے بھی اوپر اب اقتصادیات نمبر ون ایشو بن کر ابھر آیا ہے ۔دونوں صدارتی امیدوار باراک اوبامہ اور جان مکین نے معاشی صورتحال پر بات کرنی شروع کی ہے۔

اس بار شاید امریکی ووٹر اپنے ووٹ کو’پاکٹ بک‘ یعنی اقتصادی مسائل پر تولےاور پرکھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد