BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2008, 23:41 GMT 04:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیائی مارکیٹیں بحران کی زد میں
حصص بازار میں(فائل فوٹو)
لیہمین برادرز کے دیوالیہ ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے جس سے مختلف بینک اور مالیاتی ادارے غیر یقینی صورت حال سے دوچار رہیں گے
امریکہ میں جاری شدید مالی بحران کے اثرات پوری دنیا کے حصص بازاروں پر مرتب ہو رہے ہیں اور ایشیائی مارکیٹوں میں منگل کو ابتدائی گھنٹوں کی ٹریڈنگ میں حصص کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں انیس سو تیس کے بعد آنےوالے اس بدترین مالی بحران کی وجہ سے ایشیا بھر کی تمام بڑی بڑی مارکیٹوں میں ٹریڈنگ کا آغاز ہوتے ہی قیمیتیں تیزی سے نیچے جانا شروع ہو گئیں۔


جاپان، جنوبی کوریا، چین اور تائیوان کے حصص بازاروں میں پانچ سے چھ فیصد کی کمی ہوئی۔ یہ مارکٹیں پیر کو چھٹی کے بعد منگل کو کھلی تھیں۔

ٹوکیو میں صبح کی ٹریڈنگ کے بعد حصص میں چار اعشاریہ آٹھ فیصد کی کمی ہوئی۔ جنوبی کوریا میں بھی مین انڈکس میں پانچ فیصد کی کمی ہوئی جبکہ ہانگ کانگ میں شیئر کی قیمتیں چھ فیصد گریں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی یہی رجحان رہا۔

شنگھائی، تائی پے اور سنگاپور میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی اور حصص کی قیمتیں تیزی سے گریں۔

نیویارک کے حصص بازار وال سٹریٹ میں سوموار کو گزشتہ چھ برس میں شدید ترین مندی دیکھنے میں آئی۔ امریکہ میں یہ مالیاتی بحران ملک کے چوتھے بڑے بینک لیہمن برادرز کی طرف سے دیوالیہ ہونے کی درخواست دینے کے بعد شروع ہوا تھا۔

ہانگ کانگ
ہانگ کانگ میں ایک سٹاک بروکر ایچ ایس بی سی بینک کے حصص پر نظر رکھے ہوئے ہے

دریں اثناء امریکن انٹرنیشل گروپ (اے آئی جی) کے بیٹھ جانے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اے آئی جی کبھی دنیا کے سب سے بڑے انشورنش گروپ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہ گروپ بھی پیسہ اکھٹا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اے آئی جی امریکہ کے فیڈرل ریزروز سے قرض حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

مختلف ملکوں کے مرکزی بینکوں نے مارکیٹوں میں اعتماد بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ امریکہ کے فیڈرل ریزورز (اتھارٹی) نے ہنگامی بنیادوں پر دیئے جانے والے قرضوں میں توسیع کر دی ہے جبکہ برطانیہ اور یورپ کے مرکزی بینکوں نے انتالیس ارب ڈالر کی مالیاتی نظام میں سرمایہ کاری کی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے چوتھے بڑے بینک کا دیوالیہ ہونے کی درخواست دینا اور پچاس ارب ڈالر میں ایک اور بڑی بروکریج فرم میری لنچ کی فروخت نے امریکہ کے مالیاتی منظر کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

دریں اثناء امریکہ کے صدر جارج بش نے اس بحران پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

News image
 ماہرین کے خیال میں اس طرح کے اداروں کا بیٹھ جانا امریکہ میں مارٹگیج مارکیٹ میں آنے والے مالیاتی بحران کا حصہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس طرح کے کتنے اور بینک اور مالیاتی ادارے اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امریکہ کی مالیاتی منڈی میں لچک اور بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت پر یقین ہے۔

امریکہ کے وزیر خزانہ یا ٹریژری سیکریٹری ہینری پالسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس بات کو مناسب نہیں سمجھتے کہ لوگوں کے ٹیکسوں کا پیسہ لیہمن برادرز کو بچانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ حال ہی میں حکومت نے ایک اور بینک بیر سٹرنز کو بچانے کے لیے ٹیکسوں کا پیسہ استعمال کیا تھا۔

پالسن نے کہا کہ موجودہ عالمی مالیاتی بحران آخر کار بہتری لائےگا۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس پریس بریفنگ میں جو امریکہ کی مالیاتی تاریخ میں اپنی نوعیت کے بدترین دن کے اختتام پر ہوئی وزیر خزانہ نے کہا دنیا کے حصص بازاروں میں اس بحران کے اتنے شدید اثرات دیکھنے میں نہیں آئے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل دونوں امیدواروں جان مکین اور باراک اوباما نے اس بحران پر تبصرہ کیا ہے۔

باراک اوباما نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ آٹھ سال سے جو لوگ حکومت میں ہیں انہوں نے ان مسائل کی طرف مناسب توجہ نہیں دی۔

حکمران رپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایک مرتبہ پھر عالمی مالیاتی منڈی میں امریکہ کی بالادستی بحال کریں گے۔

لہیمن بردار کے دیوالیہ ہونے کی درخواست کے بعد اس کے دفاتر سے ملازمین گتے کے ڈبو میں اپنی ذاتی اشیاء لے کر جاتے ہوئے نظر آئے۔

ماہرین کے خیال میں اس طرح کے اداروں کا بیٹھ جانا امریکہ میں مارٹگیج مارکیٹ میں آنے والے مالیاتی بحران کا حصہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس طرح کے کتنے اور بینک اور مالیاتی ادارے اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔

عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
اسی بارے میں
معیشت کو سہارا چاہیے: بش
19 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد