امریکی اقتصادی پیکج پر معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں بش انتظامیہ اور ایوانِ نمائندگان کے رہنماؤں کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال کو قابو میں کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 150 ارب ڈالر کا اقتصادی پیکج دیا جائے گا جو ترقی کی شرح میں اضافے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دے گا۔ ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ کانگریس جلد ہی اس معاہدے پر عمل کرے گی ’تاکہ ربیٹ یعنی ٹیکس میں چھوٹ کے چیک ڈاک سے بھیجے جا سکیں۔‘ اس منصوبے سے 117 ملین امریکی خاندان مستفید ہوں گے اور ہر ایک فرد کے لیے 600 ڈالر جبکہ شادی شدہ جوڑوں کے لیے 1200 ڈالر ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔ بچوں والے جوڑوں کو 300 ڈالر فی بچہ اضافی ملے گا۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے امریکی معیشت کو کساد بازاری سے بچایا جا سکے۔ یہ اعلان پوری دنیا کی اقتصادی منڈیوں میں آنے والے شدید بحران کے بعد کیا گیا ہے جس کے بعد تشویش پیدا ہو گئی تھی کہ امریکی معیشت خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے معیشت کو سہارا ملے گا۔ انہوں نے ایوانِ نمائندگان سے اپیل کی ہے کہ اسے جتنا جلدی ممکن ہو فوراً منظور کر لیا جائے۔ دو دن قبل فیڈرل ریزرو نے امریکی شرح سود کو 4.25 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد تک کر دیا تھا جو 25 سالوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیکج کو جلد عملی شکل دی جائے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ معیشت کی مدد کرنے میں بہت دیر ہو جائے۔ | اسی بارے میں ایشیائی سٹاک مارکیٹ میں بہتری23 January, 2008 | آس پاس بازار حصص میں افراتفری، سود میں کمی22 January, 2008 | آس پاس کساد بازاری کا خوف، افراتفری، ہر جگہ گراوٹ22 January, 2008 | آس پاس ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | آس پاس معیشت کو سہارا چاہیے: بش19 January, 2008 | آس پاس عالمی بازار حصص میں عدم استحکام18 January, 2008 | آس پاس ’امریکہ کی سلطنت رو بہ زوال‘ 20 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||