کساد بازاری کا خوف، افراتفری، ہر جگہ گراوٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا اور آسٹریلیا کی سٹاک مارکیٹوں کے بعد یورپی مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان دوسرے دن جاری رہا ہے اور اقتصادی ماہرین نے عالمی کساد بازاری کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو لندن کا فٹسی 100 انڈیکس کاروبار کے ابتداء میں ہی قریباً تین فیصد گر گیا تاہم بعد ازاں اس میں ایک فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی۔ ادھر جب ایشیائی اور آسٹریلوی عالمی بازارِ حصص میں کاروبار شروع ہوا تو جاپان کا نکی انڈیکس کاروبار کے پہلے ہی منٹ میں ایک اعشاریہ پانچ فیصدگرا جبکہ بعد ازاں یہ گراوٹ پانچ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ دو برس میں ایک ریکارڈ ہے۔ ہانگ کانگ کے بازارِ حصص میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آئی اور مارکیٹ پانچ فیصد سے زائد جبکہ چین اور جنوبی کوریا میں شیئر مارکیٹ پانچ فیصد تک گری۔ادھر آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مندی کا چھبیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور مارکیٹ سات اعشاریہ ایک فیصد نیچے آ گئی۔ جنوبی ایشیا میں مندی کا شدید اثر ممبئی کے سینسیکس انڈیکس پر پڑا جو بازار کھلنے کے فوراً بعد ہی اس میں نو اعشاریہ سات پانچ فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کے بعد کاروبار ایک گھنٹے کے لیے روکنا پڑا۔ پیر کو ممبئی میں بازارِ حصص میں سات اعشاریہ چار فیصد کی گراوٹ نوٹ کی گئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ بھارت کے وزیرِ خزانہ پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ’ حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے سرمایہ بروکرز کو ضروری لیکیوڈٹی فراہم کی جائیں گی‘۔ سنہ 2008 کا آغاز سٹاک مارکیٹوں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا ہے اور سال کے آغاز سے اب تک جاپان کا نکی انڈیکس اٹھارہ فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس چودہ فیصد، ممبئی کی سینسیکس انڈیکس بارہ فیصد اور چین کا مین شنگھائی انڈیکس سات فیصد نیچے آ چکا ہے۔
تاہم جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتی کہ فی الحال اسے حالات میں دخل اندازی کی ضرورت ہے۔ جاپان کے وزیرِ اقتصادی و مالیاتی پالیسی ہیروکو اوٹا کا کہنا ہے کہ’دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹوں کو مندی کا سامنا ہے اور بنیادی طور پر یہ رجحان امریکی مارکیٹوں کی صورتحال سے پیدا ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس وقت صرف جاپان صورتحال پر قابو نہیں پا سکتا اور ہمیں عالمی تعاون درکار ہے‘۔ آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینک سٹراس کاہن کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی حالت’خراب‘ ہو رہی ہے اور دنیا کے تمام ممالک پر امریکی ترقی میں کمی کے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پیر کو عالمی بازارِ حصص میں گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے بعد سب سے بڑی مندی دیکھنے میں آئی تھی۔ پیر کو لندن کا فٹسی 100 انڈیکس پانچ اعشاریہ پانچ فیصدگرا تھا جس سے قریباً ستّتر ارب پاؤنڈ مالیت کے شیئرز کا نقصان ہوا تھا۔لندن کے علاوہ پیرس اور فرینکفرٹ میں بھی سٹاک مارکیٹوں میں سات فیصد گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ممبئی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی21 January, 2008 | انڈیا معیشت کو سہارا چاہیے: بش19 January, 2008 | آس پاس عالمی منڈی میں تیز مندی 22 October, 2007 | آس پاس ممبئی بازارِ حصص میں زبردست مندی17 October, 2007 | انڈیا ایشیائی حصص میں ایک بار پھر کمی29 August, 2007 | آس پاس عالمی منڈی بحرانی کیفیت میں18 August, 2007 | آس پاس دنیا بھر کے حصص بازار مندے میں28 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||