BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 August, 2007, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیائی حصص میں ایک بار پھر کمی
سٹاک مارکیٹ
عدم تحفظ کی وجہ سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں دنیا بھر میں قرضوں کی سہولت میں کمی آ جائے
ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

جاپان میں ٹوکیو کی سٹاک مارکیٹ نِکئے انڈیکس بدھ کو نصف دن کی تجارت تک 347 پوائنٹس یا دو فیصد تک گر گیا جبکہ منگل کی شب امریکی سٹاک مارکیٹ ڈاؤ جونز 280 پوائنٹس یا دو اعشاریہ ایک فیصد کمی پر بند ہوئی۔

بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں کمی کا رجحان امریکہ میں مکان خریدنے کے لیے دیئےگئے قرضوں کی وصولی سے متعلق برقرار خدشات کی وجہ سے آیا ہے۔

منگل کی شب سے امریکی سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ اور بدھ کی صبح اس گراوٹ کا اثر ایشیائی مارکیٹوں میں منتقل ہونے کی بنیادی وجہ سٹاک برکروز کی جانب سے یہ تازہ تنبیہ ہے کہ امریکہ میں عام قرضوں کی وصولیوں کے کم امکانات کی وجہ سے بینکوں کے منافع میں شدید کمی متوقع ہے۔

چند عالمی بینک گھروں کی خریداری کے لیے زیادہ شرح سود پر ان لوگوں کو قرضے دیتے ہیں جن کی کریڈٹ ہسٹری (ماضی میں قرض لے کر واپس کرنے کا تسلسل) کمزور ہوتی ہے۔ ایسے قرضوں کو سب پرائم مارگیج کہا جاتا ہے اور انہیں وصولی کے اعتبار سے پُر خطر سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ میں سب پرائم مارگیج سیکٹر کے حالیہ بحران کی وجہ سے سرمایہ کاری کے ایک بڑے عالمی بینک میرِل لِنچ نے سرمایہ کاروں کو خبردار کرنے کے لیے سِٹی گروپ سمیت تین بڑے عالمی بینکوں کے حصص پر تازہ خدشات کو اظہار کیا ہے۔ یہی خدشات امریکہ اور ایشیا کی عالمی منڈیوں میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے حصص کے کاروبار میں منفی روجحان کا سبب بنے ہیں۔

عالمی سرمایہ کاروں میں عدم تحفظ کی ایک اور وجہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو کے اجلاس میں کیئے گئے فیصلے بھی ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی خزانچی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ معاشی ضروریات کی بناء پر سود کی سرکاری شرح میں کمی جلد امکان نہیں ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی منڈیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک ماہ قبل مطلوبہ پالیسیاں بنانے کی ضرورت تھی لیکن افراطِ زر قابو میں رکھنے کی مصروفیت کی وجہ سے مالی منڈیوں کی جانب توجہ نہیں دی جا سکی۔

پچھلے ایک سال میں بہت زیادہ شرح سود کی وجہ سے امریکہ میں سب پرائم مارگیج کی وصولیوں میں ریکارڈ سطح تک کمی آ گئی ہے۔ جس نے ناصرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی مالی منڈیوں کو گزشتہ چند ہفتوں میں بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں میں عدم تحفظ کا احساس فروغ پانے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں ناصرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں قرضوں کی سہولت میں کمی آ جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد