بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے: آئی ایم ایف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی حصص بازاروں میں دو دن کی شدید مندی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حالات میں بہتری لانے کے لیے کوششیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق دنیا بھر میں حصص کی گرتی قیمتوں کے باوجود’حالیہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے‘۔ جمعہ کی رات گئے جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ انہیں ں یقین ہے کہ قرضوں کے اجراء کے حوالے سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے (بینکوں کی) حکمتِ عملی کے نتائج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ امریکی مالیاتی اداروں کے پھنسے ہوئے قرضوں کی وجہ سے دنیا کے بازار حصص ہِل کر رہ گئے ہیں اور نتیجتاً بینکوں نے ایک دوسرے کو رقوم جاری کرنے پر اپنی فیس کا تناسب یہ کہہ کر بڑھا دیا ہے کہ وہ خطرے کے امکان کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی ترقی کے لیےدرکار بنیاد اپنی جگہ موجود ہے‘۔ یاد رہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران متعدد ممالک کے مرکزی بینکوں نے بھی کرنسی کا بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے بینکاری نظام کے لیے کئی بلین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ عالمی طور پر قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے باعث جمعہ سے دنیا کے بڑے حصص (شیئرز) بازاروں میں شدید مندی کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ اربوں ڈالر کے شیئرز اپنی قدر کھو بیٹھے ہیں، جس سے کاروباری ادارے اور انفرادی سرمایہ کار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ جمعہ کو نیویارک کی ڈاؤ جونز شیئر انڈکس میں 14۔31 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور اعشاریہ دو فیصد مندی پر بند ہوئی جبکہ لندن کی FTSE شیئر انڈکس چار برس میں بدترین سطح پر رہا اور مارکیٹ انڈکس 3.7 فیصد گرا۔ اس کے علاوہ پیرس کی Cac شیئر انڈکس 3.1 فیصد اور جرمنی کی Dax شیئر انڈکس 1.5 فیصد تک گر گئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بازارِ حصص کے بحران سے بینکوں، کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قرضوں اور نقد رقوم کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عمل عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتا ہے۔‘ امریکی مالیاتی اداروں کے پھنسے ہوئے قرضوں کی وجہ سے دنیا کے بازار حصص ہِل کر رہ گئے ہیں۔ امریکی مالیاتی اداروں نے بڑے پیمانے پر ایسے لوگوں کو قرض جاری کیے ہیں جو ان کے اہل نہ تھے۔ نتیجتاً بینکوں نے ایک دوسرے کو رقوم جاری کرنے پر اپنی فیس کا تناسب یہ کہہ کر بڑھا دیا کہ وہ خطرے کے امکان کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دنیا بھر میں مرکزی بینکوں نے تجارتی بینکوں کو قرضے جاری کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حصص بازاروں کو سہارا دیا جا سکے۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ کی مدد مگر کس حد تک‘31 January, 2007 | آس پاس نیویارک: پاکستانی بینکر پر الزام 04 May, 2007 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس ٹوکیو بازارِ حصص میں افراتفری18 January, 2006 | آس پاس امریکہ: دو ارب ڈالر روزانہ قرضہ03 August, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||