امریکی، یورپی بازار حصص میں بہتری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے مالیاتی ادارے فیڈرل ریزرو نے بنکوں کو دیے جانے والے قرضوں پر شرح سود میں کمی کر دی ہے جس کے بعد جمعہ کو یورپ اور امریکی کی منڈیوں میں گزشتہ چند دنوں سے جاری مندی کا رجحان ختم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد یورپ اور نیو یارک میں حصص کی قیمتوں میں بہتری آئی ہے۔ فیڈرل ریزرو کا بنکوں کو قرضوں کی قیمت کرنے کے فیصلے کا مقصد امریکی مالی نظام میں پیسے کے بہاؤ کو بڑھانا تھا۔ ایشیا کے مرکزی بینکوں کو ایک ہفتے سے جاری بے چینی کے بعد بازار حصصِ میں استحکام لانے کے لیے ایک بار پھر مداخلت کرنا پڑی ہے اور بینک آف جاپان نے بینکوں کو مسلسل دوسرے روز بھی فنڈز دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بینک آف جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2ء1 ٹریلین ین یا ساڑھے دس بلین ڈالر کے وسائل بازار میں لائے گا۔ آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے بھی کچھ ایسے ہی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایشیا میں جمعہ کو بھی حصص کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی، اگرچہ کمی کا یہ رحجان اس پیمانے کا نہیں تھا جو گزشتہ روز دیکھنے میں آیا تھا۔ جمعرات کو دنیا بھر کے حصص بازاروں میں شدید مندی رہی اور لندن اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ لندن کا اہم بازارِ حصص FTSE دو سو پچاس پوائنٹس گر کر پانچ ہزار آٹھ سو انسٹھ پر ختم ہوا، جو کہ پچھلے چار سالوں میں گرواٹ کا سب تیز رحجان تھا۔ مندی کا یہ شدید رحجان یورپ اور ایشیا کے حصص بازاروں میں بھی دیکھا گیا۔ تاہم دن کے کاروبار کی اختتامی گھنٹیاں بجنے سے کچھ دیر قبل وال سٹریٹ نیویارک میں گزشتہ روز کے مقابلے میں ڈرامائی بہتری دیکھنے میں آئی۔ وال سٹریٹ کی قدرے بہتر صورتحال کے بعد یورپی حصص بازاروں میں بھی بحالی کا عمل شروع ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
جمعہ کو جاپان کے نیکئے بازار حصص میں 33ء2 فیصد کمی واقع ہوئی، جو کہ پچھلے نو ماہ میں مندی کا بد ترین رحجان تھا۔ گھروں کی خرید و فروخت کے لیے قرضے دینے والے امریکی مالیاتی اداروں میں آنے والے بحران اور اس پیدا ہونے والے مالی خدشات کی وجہ سے دنیا بھر کے حصص بازاروں میں نو اگست سے شدید مندی کا رحجان ہے۔ امریکی مالیاتی اداروں نے sub-prime lending کی یعنی ایسے لوگوں کو قرض دیے جو مالی لحاظ سے اس کے اہل نہ تھے، نتیجتاً بڑے پیمانے پر قرضوں کی واپسی نہ ہوئی اور کئی مالیاتی ادارے یا دیوالیہ ہوگئے ہیں یا ہونے کے قریب ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک گھر کے لیے قرضہ دینے والے ادارے ’کنٹری وائڈ فنانشل‘ نے اعلان کیا کہ قرضوں کے لیے مختص ساڑھے گیارہ بلین ڈالر کو وہ اب اپنے روزمرہ کے امور نمٹانے کے لیے مختص کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس ادارے نے کہا تھا کہ گھروں کے لیے حاصل کیے قرضوں کی ادائیگیوں میں بےقاعدگیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ اس ادارے کے ایسے اعلانات کے بعد حصص بازاروں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچی، جس کے نتیجے میں امریکی ہاؤسنگ سیکٹر کو شدید مالی دھچکا لگا۔ |
اسی بارے میں حصص بازار، شدید مندی برقرار16 August, 2007 | آس پاس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے: آئی ایم ایف11 August, 2007 | آس پاس ٹوکیو بازارِ حصص میں افراتفری18 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||