BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 January, 2008, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی

ممبئی بازار حصص ، فائل فوٹو
کچھ ہی دنوں پہلے ممبئی بازار حصص اکیس ہزار پوائنٹس کو عبور کیا تھا
ممبئی حصص بازار میں حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی مندی سے سٹاک ایکسچینج میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔

حصص بازار جس نے کچھ دن قبل ہی اکیس ہزار پوائنٹس کا ہدف عبور کیا تھا پیر کو سترہ ہزار چھ سو پانچ پوائنٹ پر بند ہوا۔

ٹریڈنگ کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب انڈیکس 2,063 پوائنٹ نیچے گر گیا، جس کے سبب سارا دن سرمایہ کاروں کے درمیان افراتفری کا ماحول رہا۔

پیر کی صبح جب بازار کھلا توگزشتہ روز کے مقابلے میں انڈیکس 94 پوائنٹ کم تھا لیکن جیسے جیسے دن گزرتا گیا، بڑی بڑی کمپنیوں کے حصصوں کی قیمتیں گرنے لگیں۔

جب بازار دو ہزار پوائنٹ سے بھی زیادہ گر گیا تو کچھ وقت کے لیے تجارت بند کر دی گئی جس کا مثبت نتیجہ نکلا اور جب دوبارہ بازار کھلا تو وہ حالات میں کچھ سدھار دیکھنے میں آیا۔

نفٹی میں بھی زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔ دوپہر تک نفٹی 509 پوائنٹس تک گرگیا لیکن بی ایس ای کے سنبھلنے کے ساتھ ہی نفٹی میں بھی کچھ پوائنٹ کا اضافہ ہوا اور آخر کار بازار بند ہونے تک نفٹی کچھ سنبھل گیا اور 5214 پوائنٹ پر بند ہوا۔

پیر کو کاروبار کے دوران قریباً ہر کمپنی نے خسارہ اٹھایا ہے اور حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ سب سے زیادہ نقصان ریلائنس کمیونیکشن، این ٹی پی سی، بجاج آٹو، اور ڈی ایل ایف جیسی بڑی کمپنیوں کو ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اقتصادی حالت کے خراب ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا روپیہ بازار سے نکال لیا ہے اور اس کے علاوہ کئی حصص بھی فروخت ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بازار اس حد تک گراہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔اس سے پہلے گزشتہ برس سترہ اکتوبر کو 1,743پوائنٹ گرا تھا اور اس وقت بھی بازار میں ہلچل مچی تھی لیکن آج بازار دو ہزار پوائنٹ سے زیادہ نیچے گرا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بازار میں اتنا اچھال ہوا تھا وہ غلط تھا اور حصص کی قیمتیں زیادہ ہو گئی تھیں اس لیے ان کا کبھی نہ کبھی گرنا لازمی تھا لیکن گراوٹ توقع سی زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد