BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 04:34 GMT 09:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرضوں کے دباؤ میں خودکشیاں

پرکاش ساونکر
پرکاش کے بھائی کا کہنا ہے کہ قرض کی وصولی کے لیے آنے والوں نے ان کے بھائی کو بہت ذلیل کیا
بینک کے قرض کی قسط وصول کرنے والے ایک ایجنٹ کے ذریعہ مبینہ طور ہراساں اور ذلیل کیے جانے کے بعد ممبئی میں رہنے والے ایک شخص نے پیر کے روز خودکشی کر لی۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے اس سے پہلے جولائی میں ایک سولہ سالہ لڑکے نے اپنی جان اس وجہ سے دے دی کیونکہ انکے مطابق قرض وصول کرنے والے ایجنٹ ان کے گھر آ کر سب کے سامنے ان کے والد کی بے عزتی کیا کرتے تھے جو ان سے برداشت نہیں ہوا۔

پولیس کے مطابق پیر کو خودکشی کرنے والے پرکاش سرونکر نے مراٹھی میں ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی خود کشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئی سی آئی سی آئی بینک کی جانب سے قرض وصول کرنے والے ایجنٹوں نے ان سے کہا کہ اگر تم قرض ادا نہیں کر سکتے تو اپنی بیوی اور بچیوں کو بیچ دو‘۔

پولیس نے اس خط اور لوگوں سے تفتیش کی بنیاد پر قرض وصول کرنے والی ایجنسی نشانت ایسوسی ایٹس کے مالک نشانت ناگرالے اور ان کے دو ساتھی تشار پرگاؤنکر، ہیرین ویدیا کے ساتھ بینک کی وصولیابی برانچ کے مینجر کیلاش چودھری کو گرفتار کر لیا۔

رہنما اصول
 اس طرح کے ایک کیس میں پھنسے ایک شخص نے آخر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔قرض کی وصولی کے لیے آئی سی آئی سی آئی بینک نے کانپور کے اس شہری کے ٹرک کو جبری طور پر ضبط کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کے بعد چھبیس فروری کو چند رہنما اصول بنائے ہیں جن میں سے ایک یہ تھا کہ کسی بھی طرح کے قرض کی ادائیگی کے لیے بینک غنڈوں کا استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی گاڑی اس طرح ضبط کی جا سکتی ہے۔
اڑتیس سالہ پرکاش سرونکر حصص بازار کے سرمایہ کار تھے اور انہوں نے آئی سی آئی سی آئی نامی بینک سے پندرہ جنوری کو پچاس ہزار روپیہ قرض لیا تھا جو وہ ادا نہیں کرسکے۔ پرکاش کے بھائی سبھاش کا، جو ان کے پڑوس میں ہی رہتے ہیں، کہنا ہے کہ قرض کی وصولی کرنے آنے والے لوگوں نے ان کے بھائی کو بہت ذلیل کیا اور دھمکایا کہ اگر انہوں نے رقم جلد ادا نہیں کی تو وہ گھر کا سارا سامان اٹھا کر لے جائیں گے۔

سرونکر کی بیوہ اور تین بچیاں
سبھاش کے مطابق ان کے بھائی گزشتہ کچھ عرصہ سے بیمار تھے اس لیے قرض کی قسط ادا نہیں کر سکے تھے۔پرکاش کی تین بیٹیاں ہیں اور ان کی بیوی ایک نجی حفاظتی ایجنسی ٹاپس میں ملازم ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایجنٹ قرض کی وصولی میں ہر طرح کے ہتھکنڈے اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ بینک کے ساتھ معاہدہ میں ایک ہدف مقرر کرتے ہیں جس کے حاصل نہ ہونہ پر ان کا بینک سے معاہدہ ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔

اس واقعہ کے بعد آئی سی آئی سی آئی بینک نے ایک اخباری اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ پرکاش سرونکر نے اسی سال جنوری میں پچاس ہزار روپے کا ذاتی قرض لیا تھا اور اسے ادا کرنے کی مدت ختم ہو چکی تھی۔پولیس اس کیس کی تفتیش کر رہی ہے اور ہمارا ادارہ پولیس سے پورا تعاون کر رہا ہے اور ’ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا بینک قرض کی وصولی کے لیے صاف شفاف طریقہ پر عمل کرتا ہے‘۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے قرض کی وصولی کے لیے کچھ رہنما اصول مرتب کیے ہیں جس پر ہر بینک کو عمل کرنا لازمی ہے۔

کاندیولی میں رہنے والے ایک تاجر سنجے شرما کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کے مطابق کچھ دنوں سے انہیں کچھ لڑکیوں کا فون آتا تھا جو انہیں بینک کے قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لیے دھمکاتی اور بھدی گالیاں دیتی تھیں۔ شرما کے مطابق انہوں نے کبھی کسی سے قرض نہیں لیا تھا، آخر کار تنگ آکر انہوں نے پولیس کا سہارا لیا۔

مسٹر شرما کے مطابق قرض دینے کے لیے بینک کے ملازمین موبائیل فون پر دن رات پریشان کرتے ہیں اور جب کوئی مجبور شخص قرض لے لیتا ہے تو اسے اس طرں ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔

بینک سے روپیہ اور گاڑی قرض پر لینے والوں کو اکثر ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ نجی فرم اپنے یہاں اکثر غنڈوں کوملازم رکھتے ہیں جو طاقت کے زور پر گاڑی بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔

اس طرح کے ایک کیس میں پھنسے ایک شخص نے آخر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔قرض کی وصولی کے لیے آئی سی آئی سی آئی بینک نے کانپور کے اس شہری کے ٹرک کو جبری طور پر ضبط کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کے بعد چھبیس فروری کو چند رہنما اصول بنائے ہیں جن میں سے ایک یہ تھا کہ کسی بھی طرح کے قرض کی ادائیگی کے لیے بینک غنڈوں کا استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی گاڑی اس طرح ضبط کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد