قرضوں کے دباؤ میں خودکشیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینک کے قرض کی قسط وصول کرنے والے ایک ایجنٹ کے ذریعہ مبینہ طور ہراساں اور ذلیل کیے جانے کے بعد ممبئی میں رہنے والے ایک شخص نے پیر کے روز خودکشی کر لی۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے اس سے پہلے جولائی میں ایک سولہ سالہ لڑکے نے اپنی جان اس وجہ سے دے دی کیونکہ انکے مطابق قرض وصول کرنے والے ایجنٹ ان کے گھر آ کر سب کے سامنے ان کے والد کی بے عزتی کیا کرتے تھے جو ان سے برداشت نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق پیر کو خودکشی کرنے والے پرکاش سرونکر نے مراٹھی میں ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی خود کشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئی سی آئی سی آئی بینک کی جانب سے قرض وصول کرنے والے ایجنٹوں نے ان سے کہا کہ اگر تم قرض ادا نہیں کر سکتے تو اپنی بیوی اور بچیوں کو بیچ دو‘۔ پولیس نے اس خط اور لوگوں سے تفتیش کی بنیاد پر قرض وصول کرنے والی ایجنسی نشانت ایسوسی ایٹس کے مالک نشانت ناگرالے اور ان کے دو ساتھی تشار پرگاؤنکر، ہیرین ویدیا کے ساتھ بینک کی وصولیابی برانچ کے مینجر کیلاش چودھری کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایجنٹ قرض کی وصولی میں ہر طرح کے ہتھکنڈے اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ بینک کے ساتھ معاہدہ میں ایک ہدف مقرر کرتے ہیں جس کے حاصل نہ ہونہ پر ان کا بینک سے معاہدہ ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد آئی سی آئی سی آئی بینک نے ایک اخباری اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ پرکاش سرونکر نے اسی سال جنوری میں پچاس ہزار روپے کا ذاتی قرض لیا تھا اور اسے ادا کرنے کی مدت ختم ہو چکی تھی۔پولیس اس کیس کی تفتیش کر رہی ہے اور ہمارا ادارہ پولیس سے پورا تعاون کر رہا ہے اور ’ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا بینک قرض کی وصولی کے لیے صاف شفاف طریقہ پر عمل کرتا ہے‘۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے قرض کی وصولی کے لیے کچھ رہنما اصول مرتب کیے ہیں جس پر ہر بینک کو عمل کرنا لازمی ہے۔ کاندیولی میں رہنے والے ایک تاجر سنجے شرما کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کے مطابق کچھ دنوں سے انہیں کچھ لڑکیوں کا فون آتا تھا جو انہیں بینک کے قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لیے دھمکاتی اور بھدی گالیاں دیتی تھیں۔ شرما کے مطابق انہوں نے کبھی کسی سے قرض نہیں لیا تھا، آخر کار تنگ آکر انہوں نے پولیس کا سہارا لیا۔ مسٹر شرما کے مطابق قرض دینے کے لیے بینک کے ملازمین موبائیل فون پر دن رات پریشان کرتے ہیں اور جب کوئی مجبور شخص قرض لے لیتا ہے تو اسے اس طرں ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ بینک سے روپیہ اور گاڑی قرض پر لینے والوں کو اکثر ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ نجی فرم اپنے یہاں اکثر غنڈوں کوملازم رکھتے ہیں جو طاقت کے زور پر گاڑی بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اس طرح کے ایک کیس میں پھنسے ایک شخص نے آخر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔قرض کی وصولی کے لیے آئی سی آئی سی آئی بینک نے کانپور کے اس شہری کے ٹرک کو جبری طور پر ضبط کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کے بعد چھبیس فروری کو چند رہنما اصول بنائے ہیں جن میں سے ایک یہ تھا کہ کسی بھی طرح کے قرض کی ادائیگی کے لیے بینک غنڈوں کا استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی گاڑی اس طرح ضبط کی جا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’ناریوں‘میں خودکشی کا رجحان02 April, 2004 | انڈیا پیکج خودکشیاں نہ روک سکا21 May, 2004 | انڈیا معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی غربت19 October, 2006 | انڈیا پھانسی پر خودکشی کی دھمکی 22 August, 2005 | انڈیا کشمیر: فوجی اہلکار کی خودکشی05 July, 2007 | انڈیا انڈیا: خاتون کیپٹن متنازع خود کشی11 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||