’ناریوں‘میں خودکشی کا رجحان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاستوں میں کم سن لڑکیوں میں خودکشی کا رجحان ترقی پذیر ملکوں کی بنسبت ستر فیصدہ زیادہ ہے۔ برطانیہ کے ایک طبی تحقیق کے جریدے میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں کم عمر لڑکیوں میں پچہتر فیصد اموات خودکشی کی بنا پر ہوتی ہیں جبکہ نوجوان لڑکوں میں یہ شرح صرف پچس فیصد ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق نوجوان لڑکیوں میں خودکشی کرنے کا رجحان روائتی خاندانی نظام کے ٹوٹنے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ لڑکیوں میں خودکشی کی دوسری وجوہات میں گھرمیں لڑکیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اوربڑھتے ہوئے دماغی امراض شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ خودکشیوں کی اس بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہیں۔ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی میں ایک اندازے کے مطابق صرف دو ہزار تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات موجدو ہیں۔ خطے کے دوسرے ملکوں سے بھی اس قسم کے اعدادو شمار ملے ہیں۔ چین ، سنگاپور ، سری لنکا اور جنوبی کوریا میں بھی نوجوانوں میں خودکشی کی شرح تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||