BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 02:33 GMT 07:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دنیا بھر کے حصص بازار مندے میں
حصص بازار
سڈنی کا اے ایس ایکس انڈیکس بھی مندے کے رحجان سے محفوظ نہ رہ سکا
شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز حصص کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں بھی کمی کا یہ رجحان جاری ہے۔

یہ گزشتہ دس سالوں میں چین کے حصص بازاروں میں سب سے زیادہ کمی تھی۔

بدھ کے روز برطانیہ کے فسٹی انڈیکس میں ایک اعشاریہ چھ فیصد کمی ہوئی جبکہ منگل کے روز یہاں دو اعشاریہ تین فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ فرانس میں بھی حصص بازار میں دو فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس سے پہلے ایشیا اور آسٹریلیا کے حصص بازاروں میں بھی اسی طرح مندے کا رحجان دیکھا گیا۔

جاپان میں حصص کی قیمتیں تیزی سے گریں اور شیئر انڈیکس پانچ سو پندے اعشاریہ آٹھ پوائنٹ کی کمی کے ساتھ 17,604.1 پوائنٹ پر بند ہوا جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سنگ انڈیکس میں چار سو اکتس اعشاریہ تین پوائنٹ کی کمی دیکھنے میں آئی۔

سرمایہ کار چین اور امریکہ میں معاشی ترقی اور آمدن میں اضافے کے رحجان کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیرِ خزانہ ہینری پالسن نے امریکی صدر جارج بش کو مارکیٹ سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

منگل کے روز نیو یارک میں ڈاؤ جونز انڈیکس تین فیصد سے زیادہ گر گئی تھی۔ یہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد ڈاؤ جونز انڈیکس میں سب سے زیادہ کمی ہے۔

منگل کو پہلے ڈاؤ جونز 500 پوائنٹ گری لیکن بعد میں یہ 416 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوئی۔ اس رجحان کی وجہ شنگھائی مارکیٹ میں نو فیصد کے قریب کمی اور ایسی خبریں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ سرمایہ کاروں کو یہ بھی خوف ہے کہ چین کی معیشت بھی اس سمت جا رہی ہے۔

چین سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے کیونکہ اقتصادی طور پر یہ ملک مضبوط ہے اور حکومت نے کئی بڑی اور منافع بخش قومی کمپنیوں کے حصص بیچ دیئے ہیں۔

تاہم حکومت یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کوئی ایسے طریقے ڈھونڈے جس سے اس ترقی کی رفتار میں کمی لائی جا سکے تاکہ معیشت ’اوور ہیٹ‘ یا زیادہ گرم نہ ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے سرمایہ دار اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں حکومت ایسے قوانین نہ لے آئے جن سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ داری کو محدود کر دیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد