عالمی منڈی بحرانی کیفیت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں موجودہ بحران کے اثرات اس وقت پوری دنیا کی سٹاک مارکیٹوں پر پڑ رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے حصص بازاروں پر بالخصوص اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں ابتری کی یہ صورتِ حال گزشتہ کئی مہینوں سے چل رہی تھی لیکن اس کے اثرات عالمی کاروبار پر جولائی کے آخر میں اچانک ہی ظاہرہونا شروع ہوئے۔ اس وقت سے نیویارک سٹاک ایکسچینج ’ّڈاؤ جونز‘ کا انڈیکس چھ فیصد کم ہوا جبکہ لندن سٹاک ایکسچینج میں آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جاپان کی سٹاک مارکیٹوں میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ترقی پزیر ممالک کے حصص کے کاروبار میں سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ رہا۔ برازیل اور ارجنٹائن کی سٹاک مارکیٹوں میں کچھ عرصے کے لیےانڈیکس میں سولہ پوائنٹس کی کمی آئی جبکہ جنوبی کوریا کا انڈیکس اٹھارہ پوائنٹس کم ہوا۔ موجودہ صورتِ حال سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار مزید حصص خریدنے سے نہ صرف گریز کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے حصص بیچنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی ترقی یافتہ ممالک کے بونڈز خریدنے میں نظر آرہی ہے جس کی وجہ کسی بھی قسم کے رسک سے بچنا ہے۔ موجودہ بحرانی کیفیت کی ایک وجہ کچھ ترقی یافتہ ممالک میں سٹاک مارکیٹوں میں بہتری بھی ہے۔ ان مارکیٹوں میں بڑی کمپنیوں کے فنڈ مینیجرز نےحصص پر منافع کمایا جس کے بعد انہوں نےاپنے دوسرے کاروباروں کے خساروں کو پورا کرنے کے لیے حصص بیچ دیئے۔ عالمی معیشت میں ترقی یافتہ ممالک کی سٹاک ایکسچینجز کے باہمی اشتراک کے باعث اب سرمایہ کاروں کے پاس انتخاب کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ تاہم اس طرح عالمی منڈی میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آسکتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کے حصص خریدنے کے فیصلوں میں بار بار ردّوبدل آسکتا ہے۔ | اسی بارے میں پراپرٹی کاروبار میں تیزی18.12.2002 | صفحۂ اول عالمی منڈی: سبقت کی امریکی کوشش27.11.2002 | صفحۂ اول امریکی کپمنی ورلڈ کام میں گھپلا26.06.2002 | صفحۂ اول عالمی بازارِ حصص میں مندی25.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||