معیشت کو سہارا چاہیے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اپنے ملک کی مسائل سے دوچار معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اربوں ڈالر کے ایک ایسے خصوصی پیکج پر زور دیا ہے جس میں کاروباری اور عام افراد کو ٹیکسوں میں رعایت دینا شامل ہے۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کا پیکج اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ اس سے امریکی کی وسیع معیشت کو فائدہ پہنچے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پیکج مجموعی ملکی پیداوار کا کم از کم ایک فیصد ہونا چاہیے جو کہ ایک سو پینتالیس ارب ڈالر بنتا ہے۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مضبوط معیشت کو صحتمند رکھنے کے لیے یہ اقتصادی پیکج بہت ضروری ہے۔ ’معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کانگریس اور حکومت کو اس پیکج کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو مل کر کام کرنا چاہیے۔‘ امریکی معیشت بڑھتے ہوئے افراط زر، ہاؤسنگ قرضوں کی مارکیٹ میں شدید بحران، تیل کی بلند قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے متزلزل اعتماد کی وجہ سے ان
گزشتہ روز صدر بش کے ٹیکس مراعات کے مجوزہ اعلان کے باوجود نیویارک حصص بازار سمیت دنیا کی بڑی سٹاک مارکٹیوں میں مندی ہی غالب رہی۔ صرف رہائشی قرضوں کی ہی مارکیٹ میں شدید بحران کی بدولت سٹی گروپ اور میرل لنچ جیسے بڑے بڑے امریکی اور یورپی بینکوں کو گزشتہ تین ماہ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر تک کا خسارہ ہوچکا ہے۔ امریکی صدر یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی مجوزہ ٹیکس مراعات معیشت پر سے کساد بازاری کا خطرہ ٹال کر اسے دوبارہ ترقی کے راستے پر ڈال سکیں گی۔ |
اسی بارے میں عالمی بازار حصص میں عدم استحکام18 January, 2008 | آس پاس سونے اور تیل کی قیمت میں اضافہ03 January, 2008 | آس پاس امریکی، یورپی بازار حصص میں بہتری 17 August, 2007 | آس پاس امریکہ: دو ارب ڈالر روزانہ قرضہ03 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||