BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 April, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے مقابلے پر تجارتی اتحاد
 ہوگو شاویز
اتحاد کی تشکیل صدر ہوگو شاویز اور فیڈل کاسترو نے کی تھی
لاطینی امریکہ کے چار ممالک کے سوشلسٹ رہنماء ایک امریکہ مخالف اتحاد کی تشکیل پر بات چیت کے لیے اس اختتام ہفتہ پر وینزویلا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

’بولوویرین آلٹرنیٹو فار امریکاز (Bolivarian Alternative for the Americas) نامی اتحاد کے رکن ممالک دراصل ایسی تجاویز پر غور کر رہے ہیں جن سے خطے میں تجارت پر امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غربت کا خاتمہ اور خطے کی قوموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اختتام ہفتہ کی ملاقات کے ساتھ ساتھ ’ایلبا‘ کھیلوں کے مقابلوں کا بھی افتتاح ہو رہا ہے جن میں خطے کے انیس ممالک کے چار ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

مذکورہ اتحاد (جسے ہسپانوی زبان میں ایلبا (ALBA) کا نام دیا گیا ہے، کی تشکیل تین برس قبل وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز اور کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو نے کی تھی۔

بعد میں بولیویا اور نکاراگوا کی شمولیت کے بعد اتحاد میں شامل ممالک کی تعداد چار ہوگئی۔ رکن ممالک کے بقول اتحاد کا مقصد خطے میں تجارت کے فروغ کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ہے جن کے ذریعے آزادانہ تجارت میں امریکہ کی اجارہ داری کا مقابلہ کیا جا سکے۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق مذکورہ ممالک کے رہنما سیاسی ہم آہنگی کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو کہ خطے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ یہ رہنماء عالمگیریت یا گلوبلائزیشن اور سرمایہ دارانہ نظام کے شدید مخالف ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اشتراکیت پر مبنی ایک متبادل نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مذکورہ ممالک کے رہنما ایک سیاسی ہم آہنگی کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو کہ خطے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ یہ رہنماء عالمگیریت یا گلوبلائزیشن اور سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اشتراکیت پر مبنی ایک متبادل نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

چاروں رہنماء اس بات پر بھی متفق ہیں کہ تجارت میں حکومتی دخل اندازی کے بغیر آزادانہ تجارت یا فری مارکیٹ میں آنے سے غریب ممالک کو نقصان ہوتا ہے۔

ان ممالک کے درمیان تجارت سے اب تک سب سے زیادہ فائدہ بولیویا کے ان کسانوں کو پہنچا ہے جو ’سویا‘ کاشت کرتے ہیں کیونکہ اب وہ اپنی کاشت وینزویلا کی منڈیوں میں بھیج سکتے ہیں۔

ایلبا کے رہنماؤں کا استدلال اپنی جگہ لیکن کچھ تنقید نگار ان کی سوچ سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی محصولات کے خاتمے سے اب تک کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بولیویا نے وینزویلا کو دو ہزار چار کے مقابلے میں کم مال برآمد کیا۔

اختتام ہفتہ کے مذاکرات کے لیے رکن ممالک کے رہنماء جب وینزویلا پہنچیں گے تو کانفرنس ہال کے باہر لگے استقبالی بینروں میں سے ایک پر لکھا ہوگا: ’سورج جنوب سے طلوع ہوتا ہے‘۔

لاطینی امریکہ کے لیڈرتبدیلیاں اور چیلنجز
لاطینی امریکہ کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے
انقلابی سیاست
’خطے میں کاسترو کا نعم البدل یوگو شاویز‘
ہیوگو شاویزہیوگو شاویز
وینزویلا کا رنگین صدر
اسی بارے میں
شاویز: بُش ’شیطان‘ ہیں
20 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد