امریکہ کے مقابلے پر تجارتی اتحاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ کے چار ممالک کے سوشلسٹ رہنماء ایک امریکہ مخالف اتحاد کی تشکیل پر بات چیت کے لیے اس اختتام ہفتہ پر وینزویلا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ’بولوویرین آلٹرنیٹو فار امریکاز (Bolivarian Alternative for the Americas) نامی اتحاد کے رکن ممالک دراصل ایسی تجاویز پر غور کر رہے ہیں جن سے خطے میں تجارت پر امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غربت کا خاتمہ اور خطے کی قوموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اختتام ہفتہ کی ملاقات کے ساتھ ساتھ ’ایلبا‘ کھیلوں کے مقابلوں کا بھی افتتاح ہو رہا ہے جن میں خطے کے انیس ممالک کے چار ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مذکورہ اتحاد (جسے ہسپانوی زبان میں ایلبا (ALBA) کا نام دیا گیا ہے، کی تشکیل تین برس قبل وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز اور کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو نے کی تھی۔ بعد میں بولیویا اور نکاراگوا کی شمولیت کے بعد اتحاد میں شامل ممالک کی تعداد چار ہوگئی۔ رکن ممالک کے بقول اتحاد کا مقصد خطے میں تجارت کے فروغ کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ہے جن کے ذریعے آزادانہ تجارت میں امریکہ کی اجارہ داری کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذکورہ ممالک کے رہنما ایک سیاسی ہم آہنگی کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو کہ خطے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ یہ رہنماء عالمگیریت یا گلوبلائزیشن اور سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اشتراکیت پر مبنی ایک متبادل نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔ چاروں رہنماء اس بات پر بھی متفق ہیں کہ تجارت میں حکومتی دخل اندازی کے بغیر آزادانہ تجارت یا فری مارکیٹ میں آنے سے غریب ممالک کو نقصان ہوتا ہے۔ ان ممالک کے درمیان تجارت سے اب تک سب سے زیادہ فائدہ بولیویا کے ان کسانوں کو پہنچا ہے جو ’سویا‘ کاشت کرتے ہیں کیونکہ اب وہ اپنی کاشت وینزویلا کی منڈیوں میں بھیج سکتے ہیں۔ ایلبا کے رہنماؤں کا استدلال اپنی جگہ لیکن کچھ تنقید نگار ان کی سوچ سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی محصولات کے خاتمے سے اب تک کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بولیویا نے وینزویلا کو دو ہزار چار کے مقابلے میں کم مال برآمد کیا۔ اختتام ہفتہ کے مذاکرات کے لیے رکن ممالک کے رہنماء جب وینزویلا پہنچیں گے تو کانفرنس ہال کے باہر لگے استقبالی بینروں میں سے ایک پر لکھا ہوگا: ’سورج جنوب سے طلوع ہوتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں شاویز کی بُش کے ’غلبہ‘ پر تنقید10 March, 2007 | آس پاس کاسترو اور شاویز کی براہ راست ریڈیو پر گفتگو28 February, 2007 | آس پاس شاویز: بُش ’شیطان‘ ہیں20 September, 2006 | آس پاس وینزویلا: شاویز رہیں گے یا نہیں03 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||