BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوگو شاویز: بائیں بازو کی زندہ تحریکیں

خطے سے کاسترو کا نعم البدل یوگو شاویز کی صورت میں اُبھر رہا ہے
اگر آپ کبھی سوچتے ہیں کہ ہمارے یہاں سوشلزم کا نظریہ کیسے اپنی گمنام مایوس کن موت مرگیا۔ نظریاتی جدوجہد کرنے والی کرشماتی شخصیات کہاں چلی گئیں؟ اور کیونکر بے کار سی ہوگئی ماضی کی وہ انقلابی سیاست۔۔۔ تو ذرا آج کے لاطینی امریکہ پر نظر دوڑائیے! یہاں آپ کو آج کے اس دور میں ایک سے بڑھ کر ایک ابھرتے ہوئے انقلابی لیڈر ملیں گےاور بائیں بازو کی زندہ پھلتی پھولتی تحریکیں بھی۔

نکاراگوآ میں بائیں بازو کے معتدل رہنما ڈینیئل اورٹیگا انتخاب جیت کر اقتدار میں آئے ہیں۔ برازیل میں سابق مزدور رہنما لولا ڈا سِلوا دوبارہ صدارتی انتخاب جیتے ہیں۔ بولیویا میں ایوو موررالِس اور ایکواڈور میں رافیعل کورریا جیسے بائیں بازو کے رہنما انتخابات جیت کر تازے تازے ابھرے ہیں۔ میکسیکو کے حالیہ انتخابات میں سخت کانٹے کے مقابلے میں بائیں بازو کے رہنما جیتتے جیتتے رہ گئے۔ اور ایک ایسے وقت میں جب کمیونسٹ کیوبا کے علیل رہنما فیدل کاسترو اپنے اسی برس پورے کر رہے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اس خطے سے اُن کا نعم البدل وینزویلا سے یوگو شاویز کی صورت میں اُبھر رہا ہے۔

فیدل کاسترو کی طرح صدر شاویز بین الاقوامی سیاست میں امریکہ کے بڑے ناقد کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔ جارج بش کو وہ اپنا بڑا حریف مانتے ہیں اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد جیسے بش مخالفین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا صدر شاویز کی خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھاجاتا ہے۔

یوگو شاویز کا ماننا ہے کہ امریکہ نے نہ صرف ان کا حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں کروائی ہیں بلکہ انہیں جان سے مارنے کی ناکام سازشیں بھی کی ہے۔

امریکہ ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتا ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود وینزویلا بدستور امریکہ کو تیل برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔

کیوبا

صدر ہوگو شاویز کی شخصیت پر وینزویلا کے لوگ اتنے منقسم نظر آتے ہیں کہ شاید پہلے کبھی نہیں تھے۔ ان کے چاہنے والے خود کو ’شاویزتا‘ یعنی ان کے انقلابی پروگرام کے پیروکار کہلواتے ہیں۔ جو لوگ صدر شاویز کی مخالفت کرتے ہیں وہ اتنی ہی شدت سے انہیں وینزویلا کے مسائل کا ذمےدار ٹھہراتے ہیں۔ لیکن یہ اکثر لوگ مانتے ہیں کہ غلط یا سہی، یوگو شاویز کی قیادت نے وینزویلا کی سیاست کو اس حد تک عوامی اور انقلابی بنا دیا ہے کہ ان کے مخالفین تک کو اپنےسیاسی ایجنڈے میں یوگو شاویز جیسے سوشلسٹ نظریات شامل کرنے پڑ رہے ہیں۔

لیکن اُن کے مخالفین اُن پر آمرانہ طرزِ حکمرانی کے الزامات لگاتے ہیں کہ وہ اپنے من پسند لوگوں کو آگے لاتے ہیں اور سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہیں۔ وینزویلا کا سرمایادار طبقہ ان کے سوشلسٹ عزائم کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیتا ہے۔ ناقدین صدر شاویز پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ وینزویلا کو کمیونسٹ کیوبا کی ڈگر پہ لے جارہے ہیں۔

خود صدر شاویز کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوام سے کئے گئے وعدوں کے تحت تیل سے آنے والی آمدنی کا بڑا حصہ ملک میں غربت کے خاتمے پر خرچ کیا ہے۔ یہی ان کی غریب آبادیوں میں مقبولیت کے وجہ بتائی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد