وینزویلا: شاویز رہیں گے یا نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ کے تیل سے مالامال ملک وینزویلا کے لوگوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں جس کا انہیں اتوار کے روز ووٹ کے ذریعے فیصلہ کر نا ہے: وہ بائیں بازو کے موجودہ صدر ہوگو شاویز کو بدستور اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ ہوگو شاویز پچھلے آٹھ برسوں سے وینزویلا کے صدر رہے ہیں۔ اگر وہ یہ صدارتی انتخاب جیت جاتے ہیں تو ان کا پورا ارادہ ہے کہ وہ آئین میں ایسی تبدیلیاں لائیں گے کہ تاحیات ملک کے صدر رہ سکیں۔ اپنے ان عزائم کی تکمیل میں آج ان کا مقابلہ ہے حزبِ اختلاف کے مشترکہ امیدوار مینیول روزالس سے، جو ملک کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے صوبے زولیا کے گورنر ہیں۔ مسٹر روزالس کا کہنا ہے کہ اگر وینزویلا کے عوام ملک کو ہوگو شاویز کی شخصی آمریت سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں تبدیلی کے حق میں فیصلہ دینا ہوگا۔ وینزویلا، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا اہم رکن ہے۔ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کی وجہ سے وینزویلا لاطینی امریکہ کا اہم ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ وینزویلا کا ماضی محلاتی سازشوں اور فوجی بغاوتوں کے قصوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہاں پچھلے پندرہ برسوں میں، ہوگو شاویز کے حق میں اور ان کی مخالفت میں، آئے دن کی ہڑتالیں، جلسے جلوس اور پرتشدد واقعات معمول رہے ہیں۔ دارالحکومت کراکس میں مقامی لوگوں سے سیاسی عدم استحکام کے یہ قصے سنتے ہوئے بار بار گمان ہوتا ہے کہ جیسے وہ بات وینزویلا کی نہیں پاکستان یا بنگلہ دیش کی کر رہے ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے یہاں جب وردی والوں کی طرف سے حکومتوں کے تختے الٹ دیئے جاتے ہیں یا سیاسی محاذآرائی حد سے بڑھ جاتی ہے تو باقی دنیا کو ایسے حالات پر سطحی سی تشویش تو ہوتی ہے لیکن کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہوتی۔ لیکن وینزویلا کی عالمی اہمیت ہی اور ہے۔ وینزویلا جیسے ملک میں اقتدار کی رسہ کشی سڑکوں پر آ جائے تو اس کا براہِ راست اثر تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس کی بڑی مثال وینزویلا میں سنہ دو ہزار دو کے واقعات ہیں جب صدر شاویز کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور ملک میں مسلسل ہڑتالیں دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافے کا سبب بنیں۔ وینزویلا کے شہری ہمارے یہاں کے لوگوں کی طرح سیاست سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔وہ جو ہوگو شاویز کے دیوانے ہیں، ’ویویا شاویز!‘ (جیے شاویز) کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے۔ اور جو صدر شاویز سے اختلاف رکھتے ہیں انہوں نے ہر حال میں انہیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ آج کے صدارتی انتخابات میں لوگ اسی سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی کے تناظر میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزے کہتے ہیں کہ عوامی مقبولیت کے لحاظ سے صدر ہوگو شاویز کو اپنے مدِمقابل پر نمایاں سبقت حاصل ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ یہ انتخاب جیت کر آنے والے برسوں میں لاطینی امریکی میں ابھرتی ہوئی بائیں بازو کی امریکہ مخالف سیاست کی قیادت کریں گے۔ |
اسی بارے میں یوگو شاویز: بائیں بازو کی زندہ تحریکیں02 December, 2006 | آس پاس شاویز: بُش ’شیطان‘ ہیں20 September, 2006 | آس پاس امریکی معذرت ناکافی ہے: وینز ویلا24 September, 2006 | آس پاس ایران، وینزویلا میں معاہدے18 September, 2006 | آس پاس وینزویلا نےاسرائیل سے تعلقات ختم کر دیئے09 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||