امریکی معذرت ناکافی ہے: وینز ویلا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وینزویلا نے اپنے وزیر خارجہ کے نیویارک میں حراست میں لیئے جانے کے خلاف امریکی حکام اور اقوام متحدہ سے باقاعدہ شکایت کی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے وینز ویلا کے وزیرخارجہ نِکولس مدورو سے معافی بھی مانگی ہے۔ نِکولس مدورو کو اپنے ملک روانگی سے قبل نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر 90 منٹ تحویل میں رکھا گیا تھا۔ نِکولس مدورو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیئے امریکہ آئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پیسکل ہارٹر کا کہنا ہے کہ امریکی معذرت سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ خود وزیر خارجہ نکولس مدورو نے کہا ہے کہ امریکی معذرت ناکافی ہے۔ نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیرخارجہ نے بتایا کہ سکیورٹی چیک کے دوران امریکی حکام نے ان کا پاسپورٹ اور ٹکٹ غیرقانونی طور پر ضبط کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوے منٹ کی تفتیش کے دوران ان کے خلا ف نازیبا الفاظ استعمال ہوئے اوران کے کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی۔ وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے وزیر خارجہ کی حراست کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور امریکی حکومت کو اس واقع کے لیئے ذمہ دار کہا ہے۔ اس سے پہلے وینزویلا کے الزام سے انکار کرتے ہوئے امریکی حکام نے کہا تھا کہ اس بات کے شواہد نہیں کہ وینزویلا کے وزیرخارجہ کو حراست میں لیاگیا یا ان کے دستاویزات ضبط کیئے گئے۔ حکام کا کہنا تھا کہ انہیں صرف دوسری بار سکیورٹی چیک سے گزارا گیا تھا۔ تاہم بعد میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس واقعے کی تصدیق کی اور معافی مانگی۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ ’ونیزویلا کے وزیر خارجہ نکولس مدورو کے ساتھ نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر ایک واقعہ‘ پیش آیا۔ ’سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس واقعے پر افسوس ہے اور امریکی حکومت نے وزیر خارجہ اور وینز ویلا حکومت سے معافی مانگ لی ہے‘۔ صدر ہوگو شاویز نے بتایا کہ وزیرخارجہ مدورو سے امریکی حکام نے سن 1992 میں ان کی سربراہی میں ناکام بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ونیزویلا کے نائب صدر ہوزے وِنسنٹ رانگل نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وزیرخارجہ کی حراست کا تعلق صدر شاویز کی اقوام متحدہ کی اس تقریر سے ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر جارج بش کو ’شیطان‘ کہا تھا۔ کراکس میں بی بی سی کے نامہ نگار گریگ مورسبیچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان چھوٹے چھوٹے معاملات بھی بڑے سفارتی اختلافات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں امریکی مبلغوں کو الٹی میٹم12 February, 2006 | آس پاس ایران، وینزویلا میں معاہدے18 September, 2006 | آس پاس شاویز: بُش ’شیطان‘ ہیں20 September, 2006 | آس پاس امریکی ممالک کا اجلاس بےنتیجہ06 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||