امریکی ممالک کا اجلاس بےنتیجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چونتیس امریکی ممالک کے رہنماؤں کا اجلاس علاقے میں آزاد تجارت کے منصوبے پر بات چیت شروع کرنے کے بارے میں کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔ ارجینٹینا میں منعقد ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں امریکہ اور میکسیکو اس کوشش میں تھے کہ آزاد تجارت کے علاقائی منصوبے پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہوجائے۔ دو روزہ اجلاس کے دوران انتیس امریکی ممالک نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سن دو ہزار چھ میں وہ آزاد تجارت کے منصوبے پر پھر سے بات چیت کرنا چاہیں گے۔ برازیل، ارجینٹینا، ونیزوئلا، اروگوے اور پراگووے علاقے میں آزاد تجارت کے منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ونیزوئلا کے صدر ہیوگو چیویز نے کہا کہ وہ علاقے میں آزاد تجارت فروغ دینے کے خلاف ایک پہاڑ کی مانند کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’آج سب سے بڑا نقصان اٹھانے والے مسٹر بش تھے۔‘ اس اجلاس کے دوران امریکہ اور آزاد تجارت کے مخالف پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے اور جمعہ کے روز توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی صدر جارج بش برازیل کے دورے پر چلے گئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ علاقائی اجلاس جارج بش کے لئے مشکل ثابت ہوا کیوں کہ انہیں ارجینٹینا کے صدر کی وہ تقریر سننی پڑی جس میں امریکی پالیسیوں پر ارجینٹینا کی معیشت کی مشکلات کے لئے تنقید کی گئی۔ امریکی ممالک کا یہ چوتھا سربراہی اجلاس تھا۔ میامی میں انیس سو چورانوے میں ہونے والے پہلے اجلاس کےدوران خطے میں آزاد تجارت کو فروغ دینے کی بات پہلی بار کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں بش اور آزاد تجارت کے خلاف مظاہرے04 November, 2005 | آس پاس ’میری موت کے ذمہ دار بُش ہوں گے‘21 February, 2005 | صفحۂ اول وینیزویلا کےصدر امریکہ کا دردِ سر24 July, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||