شاویز: بُش ’شیطان‘ ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران امریکہ کے صدر جارج بُش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’شیطان‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کل یہاں شیطان آیا تھا اور ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ دنیا کا مالک ہو۔‘ یاد رہے کہ امریکی صدر نے منگل کے روز جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندے جان بولٹن نے بعد میں صحافیوں سے کہا کہ وہ وینز ویلا کے لیڈر کے کلمات کا جواب دیکر انہیں توقیر نہیں بخشیں گے۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر بائیں بازو کے رہنما اور کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کے زبردست حامی ہونے کے علاوہ آج کل دنیا کے تیل پیدا کرنے والے بڑے ملک ایران کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہے ہیں جس وجہ سے امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے شاویز نے کہا کہ’ اس جگہ سے آج بھی سلفر کی بو آ رہی ہے۔‘ انہوں نے دنیا پر امریکی ’اجارہ داری‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں زبردست ترامیم کا مطالبہ کیا تا کہ ان کے بقول امریکہ کے اثرورسوخ کو ختم کیا جا سکے۔ منگل کو اپنی تقریر میں صدر بُش نے مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں جوں جوں دہشگردوں پر زندگی تنگ ہو رہی ہے، جمہوریت جڑیں پکڑ رہی ہے۔ بدھ کی کارروائی کا آغاز افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی تقریر سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشتگردی پرقابو پانے کے لیئے صرف فوجی کارروائی کافی نہیں ہے۔ حامد کرزئی کا مطالبہ تھا کہ خطے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے اس نیٹ ورک کو تباہ کیا جائے جس کے ذریعے دہشتگردوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور انہیں پیسے اور اسلحہ دیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں وینزویلا: دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت05 February, 2006 | آس پاس وینزویلا: امریکہ کی جوابی کارروائی 03 February, 2006 | صفحۂ اول بولیویا کےصدر کا سادہ لباس مقبول29 January, 2006 | صفحۂ اول جنوبی امریکہ: بائیں بازو کا چینل 01 November, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||