بولیویا کےصدر کا سادہ لباس مقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولیویا کے نئے صدر ایوو مورالیز عالمی رہنماؤں سے ملاقات میں سوُٹ نہیں پہنتے لیکن ان کی سادگی بھی فیشن بن رہی ہے اور بولیویا کی ایک کمپنی نے ان کے سویٹر کے رنگ کے کپڑے بنانا شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ سال انتخابات میں کامیابی کے بعد سے صدر مورالیز کئئ عالمی رہنماؤں سے ٹائی سوُٹ کی بجائے نیلے اور سرخ رنگ کا دھاری دھار سویٹر پہن کر مِل چکے ہیں۔ سویٹر بنانےوالی ایک کمپنی نے اب کہا ہے کہ اب وہ انہی رنگوں کے سویٹر بنا کر ملک کے ’صدر کی شناخت‘ کے طور پر فروخت کرے گی۔ اس کمپنی کے سویٹر کی قیمت آٹھ ڈالر ہو گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے لباس کا مطالبہ صدر کے حامیوں کی طرف سے کیا گیا تھا اور اسے ’ایوو فیشن‘ کا نام دیا جائے گا۔ جنوبی امریکہ کے قدیم قبائل سے تعلق رکھنے والے مورالیز کو انتخابات میں چوّن فیصد ووٹ پڑے جو انیس سو اسی کی دہائی میں جمہوریت کے بحالی کے بعد کسی بھی امیدوار کو پڑنے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔
بولیویا کے ایک مبصر نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کوبتایا کہ بولیویا کے لوگوں کو یہ بات پسند آئی ہے کہ مورالیز نے صدر بن کر بھی اپنا مشہور غیر رسمی انداز نہیں بدلا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں مورالیز آرمانی جیسی کمپنی کے پہناووں سمیت کوئی مہنگا سوُٹ نہیں پہنیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمانی کے سوٹ جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک کے صدور میں بہت مقبول ہیں۔ | اسی بارے میں وینیزویلا کےصدر امریکہ کا دردِ سر24 July, 2005 | صفحۂ اول ’میری موت کے ذمہ دار بُش ہوں گے‘21 February, 2005 | صفحۂ اول چلی میں بوسوں کا عالمی ریکارڈ12 January, 2004 | صفحۂ اول بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||