BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2004, 22:17 GMT 03:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چلی میں بوسوں کا عالمی ریکارڈ
بوسے
چار ہزار چار سو سے زائد جوڑوں نے ہم بوسہ ہونے کا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے ہونے والی اس تقریب میں حصہ لیا

چلی کے شہر سان تیاگو کی ایک شاہراہ پر تقریباً نو ہزار زندہ دلانِ چلی محض اس لیے ایک دوسرے سے ہم بوسہ ہونے کے لیے جمع ہوئے کہ اپنے ملک کے لیے ایک نیا اور انوکھا ریکارڈ قائم کر سکیں۔

وہ جمع ہوئے، ایک دوسرے سے کم از کم دس سیکنڈ تک ہم بوسہ رہے اور نیا ریکارڈ بنا دیا۔ چلی کے دارالحکومت میں اتنے جوڑوں کے ایک ساتھ ہم بوسہ ہونے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان میں سے اکثر کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ تھیں اور وہ شاہراہ کے کنارے جمع ہوئے تھے۔

اس سے پہلے یہ اعزاز پیرس کو حاصل تھا جہاں پندرہ سو اٹھاسی جوڑوں نے ہم بوسہ ہونے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

فروری دو ہزار میں قائم کیا جانے والا یہ ریکارڈ کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں قائم کیے جانے والے ریکارڈ کو توڑ کر قائم کیا گیا تھا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ چلی لاطینی امریکی ممالک میں سب سے زیادہ قدامت پرست تصور کیا جاتا ہے اور اس کی شہرت فوجی آمریت اور اس کے ساتھ پابلو نیرودا جیسے شاعر کا ملک ہونے کی ہے جسے ستر کی دہائی میں فوجیوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے ہلاک کر دیا۔

لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ چلی تبدیل ہو رہا ہے گزشتہ سال ایک یخ بستہ صبح کو تین ہزار لوگ اسی شاہراہ پر اس لیے جمع ہوئے کہ برہنہ تصویر کھنچوا سکیں۔

’میرا خیال ہے چلی کے لوگ اپنے آپ سے باہر نکل رہے ہی‘ خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق تیئیس سالہ فیونا کیبالوس نے اپنے دوست سے ہم بوسہ ہونے کے بعد کہا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد