| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلی میں بوسوں کا عالمی ریکارڈ
چلی کے شہر سان تیاگو کی ایک شاہراہ پر تقریباً نو ہزار زندہ دلانِ چلی محض اس لیے ایک دوسرے سے ہم بوسہ ہونے کے لیے جمع ہوئے کہ اپنے ملک کے لیے ایک نیا اور انوکھا ریکارڈ قائم کر سکیں۔ وہ جمع ہوئے، ایک دوسرے سے کم از کم دس سیکنڈ تک ہم بوسہ رہے اور نیا ریکارڈ بنا دیا۔ چلی کے دارالحکومت میں اتنے جوڑوں کے ایک ساتھ ہم بوسہ ہونے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان میں سے اکثر کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ تھیں اور وہ شاہراہ کے کنارے جمع ہوئے تھے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز پیرس کو حاصل تھا جہاں پندرہ سو اٹھاسی جوڑوں نے ہم بوسہ ہونے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ فروری دو ہزار میں قائم کیا جانے والا یہ ریکارڈ کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں قائم کیے جانے والے ریکارڈ کو توڑ کر قائم کیا گیا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چلی لاطینی امریکی ممالک میں سب سے زیادہ قدامت پرست تصور کیا جاتا ہے اور اس کی شہرت فوجی آمریت اور اس کے ساتھ پابلو نیرودا جیسے شاعر کا ملک ہونے کی ہے جسے ستر کی دہائی میں فوجیوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ چلی تبدیل ہو رہا ہے گزشتہ سال ایک یخ بستہ صبح کو تین ہزار لوگ اسی شاہراہ پر اس لیے جمع ہوئے کہ برہنہ تصویر کھنچوا سکیں۔ ’میرا خیال ہے چلی کے لوگ اپنے آپ سے باہر نکل رہے ہی‘ خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق تیئیس سالہ فیونا کیبالوس نے اپنے دوست سے ہم بوسہ ہونے کے بعد کہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||