وینزویلا کا رنگین صدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو اٹھانوے میں پہلی مرتبہ برسر اقتدار میں آنے کے بعد سےہیوگو شاویز ایک طرف نہایت قابل تعریف اور دوسری طرف نہایت ناپسندیدہ حکمران کے طور پر اپنے ملک وینزویلا اور پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ وینزویلا دو دھڑوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ شاویز غریبوں کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ وہ آمر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے حامیوں کے مطابق وینزویلا کے غریبوں کے حقوق کے لیے صرف انہوں نے آواز اٹھائی ہے جبکہ تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ وہ کیوبا کے کمیونسٹ نظام کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سابق فوجی 1992 میں ایک ناکام گروپ کے سربراہ کے طور پر ابھرے تاہم وہ اپنے ملک کے امیروں اور غریبوں میں امتیاز دور کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہی روایتی سیاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مخالف جماعت 2002 سے انہیں قانونی طریقوں سے صدارت کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ 2004 میں ان کی صدارت کے متعلق ریفرنڈم کرانے کی ضرورت پڑی۔ مگر اس ریفرنڈم سے وہ مزید مستحکم ہو گئے کیونکہ انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل ہوئے۔ اس جیت پر انہوں نے کہا کہ وہ دسمبر 2006 کے انتخابات میں دوبارہ چھ سال کے لیے منتخب ہو جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ قانون میں تبدیلی کے ذریعے پھر سے 2012 میں منتخب ہو جائیں گے۔ جب شاویز نے1998 میں اقتدار حاصل کیا تو وینزویلا کے پرانے احکامات کو ختم کر دیا گیا۔ اپنے ہمسایہ ممالک کی طرح وینزویلا کی یہ جمہوری حکومت بھی 1958 سے مسلسل اقتدار میں ہے۔ لیکن ملک کی دو اہم جماعتوں نے انہیں ملک میں انتظامی بدعنوانی کا ذمےدار ٹہرایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ تیل کی دولت کو ضائع کر رہے ہیں۔ شاویز نے انقلابی سماجی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو ’ سفاک طبقہ امراء‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی ریاست کی بدعنوان غلام ہے۔ شاویز نے، جو کبھی بھی قوم سے خطاب کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ایک دفعہ تیل کے ایگزیکٹوز کے متعلق کہا کہ وہ پرتعیش رہائش گاہوں میں رہتے ، وہسکی پیتے اور گروپ سیکس میں مشغول رہتے ہیں۔
شاویز نے ایک دفعہ چرچ کے پادریوں کے متعلق کہا کہ وہ یسوع مسیح کے راستے پر نہیں چلتے۔ جب کبھی بھی ذرائع ابلاغ نے ان کی صدارت کے متعلق غیر مطمئن ہونے کا اظہار کیا توجواب میں انہیں مزید الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی بھی کافی تضادات کو جنم دیتی ہے جیسا کہ کیوبا اور عراق کے دورے نے انہیں متضاد بنا دیا۔ انہوں نے کولمبیا کے باغیوں سے مبینہ طور پر تعلقات استوار کیے اور گیانا کے علاقوں پر اپنی ملکیت کا حق جتایا۔ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کی افغانستان سے جنگ کے وقت انہوں نے ایک بیان میں کہا ’ ایک دہشت گرد دوسرے دہشت گرد سے لڑ رہا ہے‘ جس کے بعد سے واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ صدر بش کی صدارت کو ’طبقہ امراء کی جھوٹی جمہوریت‘ اور ’بموں کی جمہوریت‘ قرار دیتے ہوئے وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران امریکہ کے صدر جارج بُش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’شیطان‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’ کل یہاں شیطان آیا تھا اور ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ دنیا کا مالک ہو۔‘ اقوام متحدہ کے ادارے کے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقے سے یہ کوئی کام نہیں کر سکتا اور شاید کوئی بھی اس نظام کا دفاع نہیں کرے گا۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد وجود میں آیا جو کسی بھی قابل نہیں ہے‘۔ 2002 میں امریکہ سے حالات کچھ بہتر ہوئے ہی تھے کہ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ انہیں صدارت سے ہٹانے کے لیے ان کے مخالف گروپوں کی خفیہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔ وینزویلا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہونے کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے مگر امریکی وزارت خارجہ نےانہیں صدارت سے ہٹانے کے الزام سے انکارکیا ہے۔
شاویز کی حکومت نے بہت بڑی تعداد میں سماجی بھلائی کے پروگرام شروع کر رکھے ہیں جس میں تعلیم اور صحت سب کے لیے شامل ہیں۔ مگر ملک میں تیل کی دولت ہونے کے باوجود غربت اور بےروزگاری کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ صدر شاویز کا کہنا ہے کہ 2006 کے انتخابات سے عبوری عہد کا خاتمہ ہو جائے گا اور فروری 2007 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بولیویا کا انقلاب پختہ ہو جائے گا۔ شاویز کا یہ لمبا دور اقتدار مختلف واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ فروری 1992 میں معاشی صورت حال پر ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے صدر کارلوس آندریس پیریز کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ جب ان کے ساتھیوں نے دوبارہ تختہ الٹنے کی کوشش کی تو وہ اس وقت جیل میں تھے۔ یہ تحریک بھی ناکام ہو گئی۔ شاویز دو سال جیل میں گزارنے کے بعد اپنی جماعت کو پانچویں ریپلک کی تحریک کے طور پر سامنے لائے اور وہ خود بھی فوجی سے سیاستدان بن کر ابھرے۔ | اسی بارے میں ’میری موت کے ذمہ دار بُش ہوں گے‘21 February, 2005 | صفحۂ اول وینزویلا کے صدر کے قتل کا مطالبہ24 August, 2005 | صفحۂ اول وینزویلا: امریکہ کی جوابی کارروائی 03 February, 2006 | صفحۂ اول وینزویلا: دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت05 February, 2006 | آس پاس امریکی مبلغوں کو الٹی میٹم12 February, 2006 | آس پاس ایران، وینزویلا میں معاہدے18 September, 2006 | آس پاس امریکی معذرت ناکافی ہے: وینز ویلا24 September, 2006 | آس پاس پٹرول پانی سے بھی سستا02 December, 2006 | Poll | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||