وینزویلا کے صدر کے قتل کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک مذہبی پروگرام کے میزبان پیٹ رابرٹسن نے وینزویلا کے صدر ہیوگو چاویز کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رابرٹسن کی طرف سے اس بیان کے بعد وینزویلا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا ملی ہے۔ پیٹ رابرٹسن نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ امریکی خفیہ اداروں کے ایجنٹوں کو چاہیے کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیگو چاویز کو قتل کر دیں۔ اس بیان کے بعد واشنگٹن میں وینزویلا کے سفیر نے بش انتظامیہ سے اپنے صدر ہیوگو چاویز کے لیے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پیٹ رابرٹسن امریکی صدارت کے لیے امیدوار بھی رہ چکے ہیں اور کسی تنازعہ کا موضوع بننا ان کے لیے نئی بات نہیں ہے۔ وینزویلا کے نائب صدر نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ایک طرف تو امریکہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کر رہا ہے اور دوسری اس طرح کے ’دہشت گرد بیانات‘ کی اجازت دیتا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بُش نے فوری طور پر اس موضوع پر اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے پیٹ رابرٹسن کے بیان کو ’نامناسب‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ وینزویلا کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ امریکہ کہ وزیر دفاع ڈانلڈ رمزفیلڈ کا کہنا ہے کہ اس طرح کسی کو قتل کرنا قانوناً غلط ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||