 | | | ٹریفک نو کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے رینگتی رہی |
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پہنچنے پر جو چیز آپ سب سے پہلے نوٹس کئے بغیر نہیں رہ سکتے وہ یہاں کا ٹریفک ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ کراچی کی ٹریفک نہایت ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔ لیکن یہاں ایئرپورٹ سے نکل کر ہوٹل پہنچنے کے لئے شہر کی سبزہ زار پہاڑیوں کے بل کھاتے راستوں پر جب ٹریفک نو کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے رینگتی رہی تو پتہ چلا کہ ٹریفک جام کسے کہتے ہیں۔ میں نے گاڑی سے باہر جائزہ لیا تو راستے میں جگہ جگہ مسکراتے صدر ہوگو شاویز کی ہاتھ ہلاتے پوز میں سرخ رنگ کی تصاویر نظر آئیں۔  | | | مسکراتے صدر ہوگو شاویز کی ہاتھ تصاویر | یہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بدترین ٹریفک جام کراکس میں روز کا معمول ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں پٹرول پانی سے بھی سستا ہے۔ ہمارے یہاں آپ جتنے پیسوں میں تیل کا ایک لیٹر خرید کر ڈالتے ہیں، اُتنے پیسوں میں یہاں آپ گاڑی کا پورا ٹینک فُل کرا سکتے ہیں! ٹریفک جام میں پھنسی گاڑیوں میں پرانی کھٹارا کاریں ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ عالیشان ایئرکنڈیشنڈ جاپانی اور امریکن گاڑیاں بھی۔ لیکن امیر ہو یا غریب، تیل کی نعمت سے مالامال ہونے کے باوجود، ترقی کی شاہراہ پر وینزویلا بھی ان گاڑیوں کی طرح پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ |