ریپبلیکن پارٹی والوں میں توقع کے عین مطابق بڑی مایوسی ہے۔ انہوں نے ایوانِ نمائندگان میں شکست تسلیم کی ہے مگر ہمت نہیں ہاری۔ ایلکسزانڈریہ ورجنیا میں میرے ایک پڑوسی ریپبلیکن ووٹر نے نتائج پہ کچھ یوں تبصرہ کیا: ’اکثریت نے جو فیصلہ دینا تھا دے دیا، لیکن ڈیموکرٹس کو ہم دو ہزار آٹھ میں دیکھ لیں گے!‘ شکست پر بعض ریپبلیکن حلقوں میں سیاسی سوگ کچھ دنوں تک تو چلے گا۔ لیکن دور کی سوچ رکھنے والے کچھ ریپبلکنز میں اپنی پارٹی کی ہار پر کچھ چھپی چھپی سی مسرت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایسے ریپلیکن ووٹرز کی نظریں ابھی سے دو ہزار آٹھ کے صدارتی انتخاب پر ہیں۔ ان کے نذدیک ریپبلیکن پارٹی کو ابھی یہ جھٹکا آنا اس لئے بھی ضروری تھا تاکہ اگلے دو برس میں وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا دوبارہ جائزہ لیں اور ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہونے کی بجائے جم کر اگلے صدارتی الیکشن کی تیاری کریں۔ ’ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ ڈیموکرٹس اس بار جیتے۔ وہ سارے لوگ جو ڈیموکریٹس کے کرتوت بھلا بیٹھے تھے، اگلے دو سالوں میں انہیں لگ پتہ جائے گا کہ جب ڈیموکرٹس کو ووٹ پڑتے ہیں تو عوامی مسائل پر کوئی پیش رفت نہیں ہو پاتی۔ امریکی خود ہی پچھتائیں گے اور اس کا فائدہ ہم دو ہزار آٹھ میں اٹھاییں گے۔‘ ریپبلیکنز کو لگنے والا سیاسی گھاؤ ابھی تازہ تازہ ہے۔ فی الحال دل کو بہلانے کے لئے یہ خیال اتنا برا بھی نہیں۔ |