BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاطینی امریکہ : سیاسی تبدیلیاں، نئے چیلنجز

 لاطینی لیڈر
لاطینی امریکہ کے لیڈروں نے مزید آپسی تعاون پر زور دیا ہے
لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک کی سیاسی قیادت حال ہی میں دوبارہ منتخب ہوئی ہے اور پورا خطہ تیز رفتار اقتصادی ترقی کی راہ پرگامزن ہے۔

تاہم دو ہزار سات میں اس خطے کو کئی طرح کے اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔

خطے کی نئي حکومتیں آزادانہ معاشی پالیسی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے جدید حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرر ہی ہیں۔

دو ہزار چھ میں تقریبا ایک درجن صدارتی انتخابات ہوئے لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ اس خطے کے بڑے ممالک کی قیادت میں تبدیلی نہیں آئی۔ برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا بدعنوانی کے الزامات کے باوجود دوبارہ انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

کولمبیا اور وینزویلا کے صدر الوارو یوروبی اور ہیوگو شاویز بھی بآسانی دوبارہ منتخب ہوگئے اور لگتا ہے کہ دوہزار سات کے انتخابات میں ارجینٹنا کے صدر نیسٹر کرچنر بھی آسانی سے کامیاب ہوجائیں گے۔

لاطینی امریکہ میں سیاسیت کی یہ ایک نئی لہر ہے۔ بعض ممالک میں صدور کو انتخات میں دوبارہ حصہ لینے کے لیے آئین میں تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں۔

دوبارہ منتخب کیے گئے رہنماؤں کو آنے والے دنوں میں کئی طرح کے چیلجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہیں اپنے وہ تمام پچھلےوعدے پورے کرنے ہونگے جنہیں وہ اپنی پہلی معیاد کے دوران بعض مجبوریوں کے سبب نہیں کر سکے تھے۔

برازیل میں صدر لولا کو غربت کے خاتمے کے لیے بعض اقدامات کرنے ہونگے۔ دو ہزار دو میں انہوں نے یہ وعدہ کر کے انتخاب جیتا تھا کہ وہ بھوک کا خاتمہ کر دیں گے لیکن ابھی تک اس میں انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

صدر یوربی امن کے قیام کے عمل میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں

اسی طرح کولمبیا کے صدر یوروبی نے ملک میں جاری علیحدگی پسندی کی تحریک اور تشدد کو جمہوری عمل سے ختم کرنے کا یقین دلایا تھا۔ لیکن صدر یوروبی نا تو ابھی تک دائیں بازو کی فوج کو رام کر سکے ہیں اور نا ہی بائيں بازو کے گوریلا جنگجوؤں کو امن مذاکرات پر قائل کر سکیں۔

صدر یوروبی کے پاس ابھی چار برس اور ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس خانہ جنگی کو کس حد تک ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جس میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

وینزویلا کے صدر ہیگو شاویز نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ چھ برس میں وہ اپنے ملک میں سوشلسٹ تحریک کی جڑوں کواور مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے انہیں تیل کے محصول پر انحصار کرنے کے بجائے ملک کی اقتصادی ڈھانچے کو ازسر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

شاویز کے نکتہ چیں کہتے ہیں کہ تیل کی آمدنی غریبوں پر خرچ ہوتی جبکہ معاشی حالت کر بہتر کرنے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے لوگوں کو روزگار ملے۔

مسٹر شاویز آج کل خاموش ہیں لیکن بعض کے مطابق وہ پورے خطے میں امریکہ کے خلاف مہم میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

حال ہی میں منتخب ہونے والے بڑے ملکوں کے تینوں صدور کا تعلق بائیں بازو سے ہے اور وہ امریکہ کی مخالفت میں شاویز کے ہم خیال بھی ہیں لیکن تینوں کو اپنے اپنے ملک میں مختلف طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

نکاراگوا کے صدر ڈینئل آرٹیج کو بھی اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ بد عنوانی کے سبب ملک میں غربت بڑھ گئی ہے اور بے انصافی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں ان حالات سے نمٹنا ہوگا۔

میکسکو میں انتخابات کے نتائج تشدد کا سبب بن سکتے ہیں

ایکواڈور کے صدر رافیل کوئرا کی انتظامیہ کو تو کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ۔ کانگریس اور صدارت کے درمیان کے تنازعے کو ختم کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے لیکن فی الوقت ایسا لگ رہا ہے جیسے ملک بغیر حکومت کے ہو۔

بولیویہ میں سیاسی اصلاحات کا عمل بھی کسی چیلنچ سے کم نہیں ہے۔ صدر ایو مورسلز نے تیل اورگیس انڈسٹری کو قومی تحویل میں لاکر اپنا انتخابی وعدہ پورا کیا ہے۔

صدر پر اب سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی کرشمہ ساز شخصیت کا استعمال کر کے ملک کو متحد رکھیں تاکہ قانون ساز اسمبلی اپنے فرائض پوری طرح انجام دے سکے۔

اگر لاطینی امریکہ کے ممالک اپنے مفادات پر اسی طرح توجہ دیتے رہے اور آزادانہ تجارت کی پالیسی کے تحت امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے تو امریکہ کے لیے
مشکلیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔

میکسیکو کے انتخابات میں گرچہ دائیں بازو کے امید وار کو کامیابی ملی ہے لیکن مخالف بایاں محاذ کے امید وار کے مقابلے میں یہ کوئی نمایاں کامیابی نہیں تھی۔ شکست خوردہ امید وار نےصدر پر کئی سنگین الزامات لگائے ہیں جس سے تشدد کا خطرہ ہے۔ اس سے امریکہ کا درد سر بڑھ سکتا ہے۔

دو ہزار چھ میں لاطینی امریکہ کی دو بڑی شخصیتیں بھی اس دنیا سے چل بسیں۔ پیراگوئے کے سابق صدر الفریڈو سٹرسنر جلاوطنی میں اگست میں انتقال کر گئے۔

چلی کے سابق فوجی حکمراں اگسٹو پنوشے بھی اکانوے برس کی عمر میں چل بسے۔

راؤل کاسٹرو کے جانیشن بن سکتے ہیں

لیکن کیوبا کے صدر فیڈرل کاسٹرو ابھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ کاسٹرو سینتالیس برس سے کیوبا کے مسلسل حکمراں رہے ہیں تاہم خرابی صحت کے سبب انہیں اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راؤل کو منتقل کرنا پڑا۔

کیوبا میں اتنے طویل عرصے سے اقتدار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نا ہی اس دوران ملک میں کوئی بے چینی دیکھی گئی۔ لیکن جب کاسٹرو کا انتقال ہوگا تو نہ صرف کیوبا کا، بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لیے بھی ایک دور کا خاتمہ ہوگا۔

امریکہ اس صورت حال کو پہلے ہی سے جمہوریت کے لیے راستہ ہموار کرنے کی صورت سے تعبیر کررہا ہے۔ اسے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں کاسٹرو کے انتقال سے کیوبا میں تشدد نہ پھوٹ پڑے جس کے سبب اسے کیوبا میں دخل اندازی کرنا پڑجائے۔

اس خطے میں آئی نئی سیاسی لہر کیوبا پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہاں جو بھی تبدیلیاں آئیں وہ وہاں کی عوام کی سوچ و فکر پر مبنی ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد