لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کا عروج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ کی ممالک کی دوسری سربراہ کانفرنس بولیویا کے دارالحکومت کوچابامبا میں ختم ہو گئی۔ کانفرنس نے یورپی یونین کی طرز پر لاطینی امریکی پارلیمنٹ قائم کی تجویز پیش کی ہے جس کا صدر دفتر برازیل میں ہوگا۔ لاطینی امریکہ کی سربراہ کانفرنس پر بائیں بازو کے رہنما جن میں ویزویلا کے صدر ہوگو شاویز، بولیویا کےصدر ایوا موریلس، اور نکاراگوا کے صدر ڈینیل اورٹیگا شامل ہیں، چھائے رہے۔ سربراہ کانفرنس کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکی کے قدیمی باشندوں کی ایک ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔ کوچابامبا میں اس ریلی میں شرکت کے لیے لاطینی امریکہ کے قدیمی باشندوں کو پورے براعظم سے وہاں لایا گیا تھا۔ دائیں بازو کے رہنماؤں نے قدیمی لاطینی امریکی باشندوں کے چالیس ہزار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لاطینی امریکہ کے ممالک کو متحد کرنے کی کوششیں کرنے کا عہد کیا۔ جب دارالحکومت کوچاممبا میں لاطینی امریکہ کو متحد کرنے کی باتیں ہو رہی تھی تو اسی دوران بولیویا میں دائیں بازو کے گروہوں نے علاقائی خود مختاری کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔ بولیویا کے شہر سانٹا کروز میں سنیچر کے روز ہزاروں لوگوں نےعلاقائی خود مختاری کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے بولیویا میں خود مختاری کی بات کرنے والوں کو امریکی سامراجیت کا ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا بولیویا کی ہر مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ | اسی بارے میں امیگریشن بِل پر اتفاق کی امید12 May, 2006 | آس پاس ’اب ہمارا تو یہی وطن ہے‘18 May, 2006 | آس پاس انسانی حقوق، مسلمان اور امریکہ27 June, 2005 | آس پاس لاطینی امریکہ : بائیں بازو کا عروج05 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||