BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اب ہمارا تو یہی وطن ہے‘

جولی
جولی آٹھ برس کی عمر میں سرحد پار کر کے امریکہ میں داخل ہوئیں
جولی آرڈینڈو بھی لاکھوں ہسپانوی بولنے والے لاطینی امریکی تارکین وطن میں سے ایک ہیں۔ انہیں نے پہلی مئی کو امیگریشن قوانین کے سلسلے میں تارکین وطن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیئے مظاہروں میں شرکت کی اور اس لیئے اپنے کام سے ایک دن کی چھٹی لی بھی لی-

سان ڈیاگو کے ایک گیس سٹیشن پر بطور اسسٹنٹ مینیجر کام کرنے والی جولی آرڈینڈو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی بات چیت میں بتایا کہ وہ آٹھ سال کی تھیں جب وہ اپنے دو چھوٹے بھائيوں کے ساتھ غیر قانونی طور میکسیکو سے سرحد پار کرکے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں داخل ہوئیں- جولی کی عمر اب پینتیس برس ہے-

میکسیکو سے امریکہ میں ایک غیرقانونی تارک وطن فیملی کے پیچھے چھوڑے ہوۓ بچوں کی حیثیت سے بعد میں امریکہ میں غیر قانونی طور سرحد پار کرنے کی اپنی یادداشت بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتاتے ہوۓ جولی نے کہا ’سب سے پہلے میری ماں امریکہ آ چکی تھی اور وہ اورنج کاؤنٹی (کیلیفورنیا ) میں ایک فیکٹری میں کام کرنے لگی تھی اور ہمیں میکسیکو میں اپنے نانا نانی کے پاس چھوڑ گئي تھی- میری ماں نے فیکٹری میں مزدوری کے دوران پیسے بھی بچانا شروع کیے کیونکہ اسے نہ صرف ایجنٹوں کو سرحد پار کرانے کے اپنے پیسے ادا کرنے تھے بلکہ ہم تین بچوں کو سرحد پار کروانے کے لیئے بھی پیسے جمع کرنے تھے‘-

امریکہ کے جنوب میں پھیلی ہوئی دو ہزار میل میکسیکو کی سرحد سے انسانی سمگلر یا ایجنٹ ہزاروں لوگوں اور خاندانوں کو سرحد پار کرواتے رہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میکسیکو سے غیر قانونی طور امریکہ میں سرحد پار کروانے کے ایجنٹ پندرہ سو سے دو ہزار ڈالر تک وصول کرتے ہیں لیکن بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے جولی جن دنوں کی بات کررہی تھیں تب بقول ان کے ’میری ماں نے میرے اور میرے دو بھائيوں کیلیے کل چار سو ڈالر اد کیے تھے‘-

’ایجنٹوں نے ہم بچوں کو کسی سے بھی بات نہ کرنے اور پورا وقت سفر خاموشی سے کاٹنے کو کہا اور ہمارے نام بھی بدل دیے گئے۔ پھر ہمارے نانا نانی ہمیں سرحدی شہر ٹوانا کے بس ٹرمینل لاۓ جہاں سے ایجنٹوں نے ہمیں اپنے ساتھ لے لیا- وہاں اور بھی بہت سے بچے تھے- میری ماں اورنج کاؤنٹی میں اپنے بھائيوں کے پاس رہتی تھی جو بھی خود کبھی سرحد پار کر کے امریکہ گئے تھے۔ اب یہی ہمارا وطن ہے‘۔

شان ریسٹورنٹ
یہاں ہر قسم کے ایشیائی کھانے ملتے ہیں جبکہ ویٹر لاطینی ہیں

جولی سکول گئیں، انہیں نے فیکٹریوں میں کام کیا اور انگریزی بھی سیکھی۔ جولی نے اپنے ہی ہم وطن میکیسیکن البرٹو سے شادی کی جو لینڈ سکیپنگ یا باغبانی کا کام کرتے ہیں۔ جولی کے تین بچے ہیں- تیرہ سالہ بیٹی، بارہ سالہ بیٹا اور دس سالہ بیٹی۔ چونکہ جولی کے سب بچے امریکہ میں پیدا ہوئے اس لیئے وہ امریکن شہری ہیں۔

جولی خود بھی انیس سو چوراسی میں امریکن شہری بنیں جب امریکہ میں صدر رونالڈ ریگن نے غیر قانونی تارکین وطن کیلیے عام معافی یا ایمنسٹی کا اعلان کیا- تب لاکھوں میکسیکنز کیساتھ بہت سے پاکستانی اور دوسرے جنوبی ایشیائی بھی امریکی شہری بنے- لیکن جولی کے شوہر آلبرٹو ابتک امریکی شہری نہیں بن سکے-

جولی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ امیگریشن فیس ہی اتنی ہے کہ اپنے کاغذات داخل کرنے کے لیے ہم کبھی فیس کی پیسے ہی نہیں بچا سکے۔

جولی کہتی ہیں ہر تارک وطن کو امریکی شہری بننے یا قانونی ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے- میکسیکن اچھے لوگ ہیں اگر انہوں نے کوئی سنگین جرم نہیں کیا تو انہیں امریکی بننے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

حامد خان
حامد خان کی تنظیم مظاہروں میں جنوبی ایشیا کے لوگوں کو شامل کرنے میں سرگرم رہی

دس سال قبل گوئٹے مالا سے امریکہ آنیوالے لاس اینجلس مییں سیزر نامی ٹیکسی ڈرائیور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ’ہم حکومت کی مدد حاصل کرنے کے لیئے یہ مظاہرے کر رہے ہیں‘۔

سیزر نے لاس اینجلس میں ولشائير بولیوارڈ پر اس تاریخی مظاہرے میں شرکت کی تھی جسکی تعداد ساڑھے چار لاکھ تھی- اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس مظاہرے میں لاطینی امریکیوں کے علاوہ اور قوموں کے بھی لوگ تھے انہوں نے کہا کہ ’ایشیائی چینی لوگ بھی تھے۔‘ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہاں پاکستانی بھی تھے جس پر انہوں نے کہا کہ ’نہیں معلوم، ہونگے کیونکہ وہ تو ہم لاطینوز جیسے ہی لگتے ہیں‘۔

لیکن ویلشائير بولیوارڈ پر رہنے والے پاکستانی بزنس مین سید اشرف علی نے جو کہ پاکستانیوں کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کی تنظیم پاکستنانی امریکن آرٹس کونسل کے صدر بھی ہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یکم مئی کو لاس اینجلس میں بڑے مظاہروں میں شرکت کیلیے انکے اکثر میکسیکن ملازموں نے ایک دن کی چھٹی لی تھی- اشرف خان نے کہا کہ ’میں نے خود بھی یہ لاکھوں لوگوں کا مظاہرہ دیکھا لیکن مجھے پاکستانی دکھائی نہیں دیئے‘۔

لاس اینجلس کے قریبی شہر آرٹیشیا میں جنوبی ایشیائی اور زیادہ تر ہندستنانی لوگوں کے کاروبار اور رہائشیں ہے۔ یہاں واقع شان ریسٹوران میں ہونیوالے پاکستانی کھانوں اور لسی سمیت مشروبات کے بوفے پر لنچ پر کھچا کھچ ہجوم محض ان دو ( ایک مرد اورایک عورت) لاطینی ملازموں کے ہاتھوں کے مرہون منت تھا جو بڑی چابک دستی سے ’اونے مینگو لسی، کوارٹرو نان اور اونے پایہ‘ کے ہندستانی مالک سے گاہکوں کےلیئے ہسپانوی زبان میں آرڈر لیتے اور سرو کرتے نظر آئے جبکہ ریسٹوران میں عربی میں آپس میں بولتے ہوۓ مہنگی کاروں میں آئے ہوئے عراقی کالدیان اور عرب نوجوان اس پر بحث کرتے رہے کہ ’شان‘ کا کیا مطلب ہے-

راؤ امیگریشن
اب قانون میں سختی کی وجہ سے کیس کم آتے ہیں: رائیو باچند راؤ

شان ریستوران سے سڑک کے اس پار اپنے دفتر میں بیٹھے امیگریشن اٹارنی یا وکیل رائیو باچند راؤ اپنے دیسی مؤکلوں میں سےایک کی بیوی کو امیگریشن حیثیت دلانے اور دوسرے کو بیوی کی وجہ سےامیگریشن حیثیت گنوانے کی قانونی موشگافیاں سلجھانے میں مصروف ملے- بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا امیگریشن کے کیسز آنا انکے پاس بہت کم ہوگئے ہیں- امیگریشن کے نئے قوانین کے آنے کے بعد پھر سے شاید یہ کام بڑھ جائے-

ہندوستان کی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے ان وکیل صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کے زیادہ تر مؤکل ہندوستانی ہوتے ہیں اور انہوں نے سیاسی پناہ کے کیسوں میں کئی ایسے مسلمان موکلوں کے بھی کیس لڑے ہیں کہ جنکا دعویٰ تھا کہ ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر ان سے امتیاز برتا گیا تھا- تاہم انہوں نے اميگریشن قوانین پر حال ہی میں اٹھنے والے مظاہروں کی لہر میں زیادہ تر شرکت لاطینی امریکہ کے لوگوں کی بتائی-

لیکن حامد خان نے جن کی تنظیم ساؤتھ ایشین نیٹ ورک لاس اینجلس میں حال ہی میں تارکین وطن کے مظاہرے منظم کرنے میں سرگرم رہی ہے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’اگر چہ پاکستانیوں سمیت جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی جو متوقع تعداد آنی چاہیے تھی وہ نہیں آئی لیکن پھر بھی اب جنوبی ایشیائی تارکین وطن بھی دوسرے تارکین وطن کیساتھ امیگریشن حقوق کیلیئے آگے ضرور آرہے ہیں-

تارکینِ وطن کے حراستی مراکزحراستی مراکز یا ۔۔۔
تارکینِ وطن کے حراستی مراکز کی ناگفتہ بہ حالت
امریکہ میں مظاہرے
تارکین وطن کو تکیلف تو امریکہ کو تکلیف
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد