بش کے امیگریشن پروگرام پر اختلاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش کے غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے پروگرام کے اعلان پر امریکہ اور میکسیکو میں مختلف قسم کا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ صدر بش نےغیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر مزید چھ ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے - صدر بش نے پیر کی شب ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کے دوران میکسیکو سے ملحقہ سرحد پر امریکی فوج کے چھ ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی اور غیر قانونی تارکین وطن کو عارضی ورکرز کی قانونی حیثیت دینے کے مجوزہ پروگرام کا اعلان کیا۔ صدر بش نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کے بارے میں کہا کہ وہ اچھے نفیس لوگ ہیں لیکن وہ ان تمام لوگوں کو شہریت دینےکا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ڈیموکریٹس نے ان اعلانات کو ’مناسب منصوبے‘ قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم کچھ کنزرویٹیو انہیں ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ صدر بش کی جانب سے براہ راست پرائم ٹیلیویژن پر یہ پہلا خطاب تھا جس میں انہوں نے کسی داخلی مسئلے پر گفتگو کی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر بش نے قدامت پسندوں اور لاطینی امریکیوں کو ایک ساتھ خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر بش کی جانب سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں کام کرنے والوں کےساتھ نرمی برتنے کے عندیے سے امریکہ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ امیگریشن قوانین کو اور سخت بنانے کے حامی اور ریپبلیکن سینیٹر ٹام ٹینکریڈو نے ’نیشنل پبلک ریڈیو‘ پر اپنے تبصرے میں صدر بش کے ’مہمان ورکرز‘ پروگرام کو بدترین پبلک پالیسی قرار دیا-
سرحد پر نیشنل گارڈ کی تعیناتی کی سب سے زیادہ مخالفت سرحد پار سے کی گئی جس میں ، رپورٹوں کے مطابق، میکسیکو کے صدر ونسیٹ فاکس نے میکسیکو سرحد پر نیشنل گارڈ کے فوجیوں کی تعیناتی کو امریکہ کی طرف سے سرحدوں کو ملٹرائيزیشن قرار دیا - میکسیکو کے نئے گورنر بل رچرڈسن نے کہا ہے کہ ’صدر بش سرحدی علاقوں کے گورنروں پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے کی تفصیلات طے کریں اور مسائل خود حل کریں‘۔ صدر بش نے اپنی تقریر میں کہا امریکہ میکسیکو سرحد پر فوج کے نیشنل گارڈ امریکہ کے اندر غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے یا غیر قانونی امیگریشن روکنے میں مصروف کار اداروں کو تربیت، امداد اور انتظامی مدد بہم پہنچائيں گے- مقامی پریس کے مطابق کییلفورنیا کے گورنر شیوز نیگر نے، جو کہ خود رییپبلیکن پارٹی کے منتخب شدہ ہیں، صدر بش کی طرف سے امریکہ میکسیکو سرحد پر نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو سرحدوں کی حفاظت کرنے کا کوئی اچھا طریقہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے اتوار کے دن کیلیفورنیا کے دارالخلافہ سیکرومینٹو سے اپنے بیان میں کہا کہ سرحدوں کی حفاظت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اوروہ بغير بوجھ ڈالے ہوئے اپنی اس ذمہ د اری پورا کرے۔ سنہ انیس سو تین میں قائم کردہ نیشنل گارڈ امریکی فوج کی بری اور بحری افواج کا حصہ ہے جسکی تعیناتی صدر اپنے حکم کےتحت کرتا ہے- بتایا جاتا ہے کہ امریکی نیشنل گارڈ کی تعداد کاچالیس فی صد اسوقت افغانستان اور عراق میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے- ایک اندازے کے مطابق، امریکہ کے جنوب میں میکسیکو کے ساتھ دو ہزار میل پھیلی ہوئی لمبی سرحد پر غیر ملکی تارکین وطن کو روکنے کےلیےصدر بش تقریباً چھ ہزار نیشنل گارڈ کے مردوں اور عورتوں کی متوقع تعیناتی کا حکم جاری کیا ہے جس پر ایک اعشاریہ نو بلین ڈالر کا خرچہ ہوگا- امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق کوئی بارہ ملین غیر قانونی تارکین وطن بستے ہیں جن میں سے جن میں دس لاکھ غیرقانونی تارکین وطن کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے-
لاس اینجلس میں تارکین وطن کے حقوق کیلیے کام کرنے والی تنظیم ساؤتھ ایشین نیٹ ورک کے سرابرہ حامد خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک ملاقات میں بتایا کہ امریکہ میں موجود غیر قانونی تارکین وطن میں جنوبی ایشائی شہریوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے- امریکی سینیٹ میں امیگریشن قوانین میں ردو بدل کا ایک بل پاس ہونے والا ہے جس کے بعد غیر قانونی امیگریشن سمیت اميگریشن قوانین کی خلاف ورزي ایک وفاقی جرم بن جائے گا اور جو کاروبار غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دے گا وہ بھی اس قانون کی زد میں آئے گا۔ امریکی صدربش کے ’گیسٹ ورکرز‘ پروگرام کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن ٹیکس اور جرمانے ادا کرنے اور بزنسوں کے سپانسر کرنے پر قانونی ہو جائيں گے۔ ساؤتھ ایشین نیٹ ورک کے حامد خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنے ایک تبصرے میں امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف موجودہ پالیسیوں اور انکے خلاف مخالفت کو نسل پرستانہ اور امتیازی قرار دیا- جبکہ گزشتہ جمعے کو اميگریشن قوانین کو سخت بنانے کیلیے کام کرنے والی ’منٹ مین پروجیکٹ‘ تحریک نے گزشتہ جمعے کو واشنگٹن میں مظاہرہ کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے پروجیکٹ کے سربراہ جم گل کریسٹ نے کہا کہ قانون کا احترام نسل پرستی نہیں- حالیہ دنوں میں امریکہ کے بہت سے شہروں میں امیگریشن کے حق میں مظاہروں میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی ہے- بہت سے مبصرین نے صدر بش کی پیر کی ٹیلیویژن تقریر کو ان کے امیگریشن قوانین میں ’مہمان مزدور‘پروگرام کے لیے ہموار کرنےکی بڑی کوشش قرار دیا جبکہ سخت امیگریشن کے حامی قانون ساز اور مبصر ’بقول انکے‘ پہلے سے ہی موجود لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کےلیے ایک’ ڈھکی چھپی‘ عام معافی سے تعبیر کر رہے ہیں- | اسی بارے میں ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس امیگریشن بِل پر اتفاق کی امید12 May, 2006 | آس پاس امریکہ کے بیس شہروں میں مظاہرے11 April, 2006 | آس پاس امریکہ: تارکین وطن کا بائیکاٹ ڈے 01 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||