برطانیہ: حراستی مراکز کی ناگفتہ بہ حالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی جیلوں کی حالت پر نظر رکھنے والی تنظیم ’پرزن واچ ڈاگ‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کلائس کی بندرگاہ اور کاکلز کےسیاحتی اور کاروباری ٹرمینل میں قائم حراستی مراکز میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو جن کمروں میں زیرِ حراست رکھا جاتا ہے ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہاں کا عملہ انہیں کتوں کے لیئے مخصوص’گھروں‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔ برطانیہ کی چیف انسپکٹر آف پرزن اینی اوررز کی اس رپورٹ میں فیری پورٹ پر واقع تین حراستی مراکز پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اگست دو ہزار پانچ میں مس اوورز کی ٹیم نے کلائس کی بندرگاہ اور کاکلز کےسیاحتی اور کاروباری ٹرمینل میں قائم حراستی مراکز کا دورہ کیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ کاکلز فریٹ ٹرمینل‘ پر رہائشی سہولتیں نامناسب اور بسوں میں ناگفتہ بہ حالات میں چھپ کر آنے والے تارکینِ وطن کی حالت کے لحاظ سے صحت و صفائی کے انتظامات انتہائی خراب تھے۔ ان حراستی مراکز میں بعض اوقات چھ یا زیادہ تارکین ِ وطن کو تیرہ فٹ لمبے اور دس فٹ چوڑے ان کمروں میں قید کیا جاتا ہے جہاں بیت الخلاء بھی کمرے کے اندر ہی گڑھے کھود کر بنائےگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مراکز میں ’گروپ 4 سکیوری کور ‘ نامی تنظیم کے جانب سے فراہم کی جانے والی ہوا خوری، گرمائش اور دیگر رہائشی سہولیات بھی غیر معیاری ہیں۔ اپنی رپورٹ میں مس اوورز نے انچاس تجاویز بھی پیش کی ہیں جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان مقامات کا تواتر سے دورہ کرے۔ ہیتھرو ائر پورٹ پر واقع ایک حراستی مرکز کے بارے میں اپنی رپورٹ میں مس اوورز نے اگرچہ عملے کی تعریف کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام غیر انسانی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ’حراست میں لیئے گئے افراد کو انسانوں کی بجائے ڈاک کا پارسل تصور کیا جاتا ہے اور امیگریشن حکام ان لوگوں کی بجائے مقدمات اور قوانین میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں‘۔ برطانوی امیگریشن وزیر ٹونی مکنلٹی کا کہنا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ ان مراکز کی غیر جانبدارانہ نگرانی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ’یہ حراستی کمرے رہائشی نہیں اور وہاں لوگوں کو چندگھنٹوں کے لیئے حراست میں رکھا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں غیر قانونی تارکینِ وطن پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں17 December, 2005 | آس پاس امریکہ کے ’خفیہ‘ حراست خانے29 June, 2005 | آس پاس برطانیہ: نسلی مباحثوں میں شدت26 February, 2006 | آس پاس مجبوریوں کے بدلے انسانوں کا سودا25 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||