BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 April, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: حراستی مراکز کی ناگفتہ بہ حالت
حراستی مراکز
حراستی مراکز کی حالت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے
برطانوی جیلوں کی حالت پر نظر رکھنے والی تنظیم ’پرزن واچ ڈاگ‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کلائس کی بندرگاہ اور کاکلز کےسیاحتی اور کاروباری ٹرمینل میں قائم حراستی مراکز میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو جن کمروں میں زیرِ حراست رکھا جاتا ہے ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہاں کا عملہ انہیں کتوں کے لیئے مخصوص’گھروں‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔

برطانیہ کی چیف انسپکٹر آف پرزن اینی اوررز کی اس رپورٹ میں فیری پورٹ پر واقع تین حراستی مراکز پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

اگست دو ہزار پانچ میں مس اوورز کی ٹیم نے کلائس کی بندرگاہ اور کاکلز کےسیاحتی اور کاروباری ٹرمینل میں قائم حراستی مراکز کا دورہ کیا تھا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ کاکلز فریٹ ٹرمینل‘ پر رہائشی سہولتیں نامناسب اور بسوں میں ناگفتہ بہ حالات میں چھپ کر آنے والے تارکینِ وطن کی حالت کے لحاظ سے صحت و صفائی کے انتظامات انتہائی خراب تھے۔

 حراست میں لیئے گئے افراد کو انسانوں کی بجائے ڈاک کا پارسل تصور کیا جاتا ہے اور امیگریشن حکام ان لوگوں کی بجائے مقدمات اور قوانین میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
چیف انسپکٹر آف پرزن اینی اوررز

ان حراستی مراکز میں بعض اوقات چھ یا زیادہ تارکین ِ وطن کو تیرہ فٹ لمبے اور دس فٹ چوڑے ان کمروں میں قید کیا جاتا ہے جہاں بیت الخلاء بھی کمرے کے اندر ہی گڑھے کھود کر بنائےگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان مراکز میں ’گروپ 4 سکیوری کور ‘ نامی تنظیم کے جانب سے فراہم کی جانے والی ہوا خوری، گرمائش اور دیگر رہائشی سہولیات بھی غیر معیاری ہیں۔

اپنی رپورٹ میں مس اوورز نے انچاس تجاویز بھی پیش کی ہیں جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان مقامات کا تواتر سے دورہ کرے۔

ہیتھرو ائر پورٹ پر واقع ایک حراستی مرکز کے بارے میں اپنی رپورٹ میں مس اوورز نے اگرچہ عملے کی تعریف کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام غیر انسانی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ’حراست میں لیئے گئے افراد کو انسانوں کی بجائے ڈاک کا پارسل تصور کیا جاتا ہے اور امیگریشن حکام ان لوگوں کی بجائے مقدمات اور قوانین میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں‘۔

برطانوی امیگریشن وزیر ٹونی مکنلٹی کا کہنا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ ان مراکز کی غیر جانبدارانہ نگرانی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ’یہ حراستی کمرے رہائشی نہیں اور وہاں لوگوں کو چندگھنٹوں کے لیئے حراست میں رکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد