مجبوریوں کے بدلے انسانوں کا سودا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جون 2000 میں پولیس اہلکاروں نے ڈوور میں ٹماٹر لانے لے جانے والی گاڑی کے پچھلے حصے سے 58 چینی تارکین وطن کی لاشیں برآمد کی تھیں۔ یہ ایسا منظر تھا جو وہ شاید کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ اس کے بعد فروری 2004 میں برطانیہ میں تارکین وطن سے متعلق دوسرا سانحہ سامنے آیا جب چینی باشندے مورکومبے کے ساحل پر سمندر کی تیز موجوں میں ڈوب گئے۔ غیر قانونی طور پر بسنے والے تارکین وطن کو پکڑنے کے لیئے آئے دن خفیہ طریقے سے فیکٹریوں، ہوٹلوں اور کھیتوں وغیرہ میں چھاپے مارے جاتے ہیں۔ انسانوں کی سمگلنگ اب ایک بڑا پیشہ بن چکا ہے اور اس میں مختلف ملکوں میں بسنے والے مختلف شہریتوں کے لوگ ملوث ہیں۔ برطانیہ میں 250000 چینی باشندے ہیں جو قانونی طور پر برطانوی معاشرے کا حصہ ہیں مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ مزید کتنے چینی باشندے ایسے ہیں جو کسی مال بردار گاڑی کے پیچھے لد کر اس ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوجاتے ہیں اور پھر پیسہ کمانے کے لیئے غیر قانونی ملازمتیں کرتے ہیں۔ چینی باشندوں کے غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 1990 ہی سے چین کے غیر اعلانیہ ملازمین کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔ اسی سال برطانیہ میں پیدا ہونے والے برطانوی نژاد بچوں کی تعداد سکولوں میں پڑھنے والے دیگر شہریت کے بچوں سے زیادہ ہوگئی بلکہ اکثر تو یہ تعداد برطانوی سفید فام بچوں کی تعداد سے بھی تجاوز کرگئی۔ یہ وہ بچے تھے جنہوں نے ہوٹلوں میں نچلے درجے کی ملازمت کرنے پر اعلٰی تعلیم کو ترجیح دی اور نتیجتاً ہوٹلوں میں نئے آنے والوں کے لیئے کام کے مواقع پیدا ہوگئے۔ ساتھ ہی چین کی معیشت پر بڑھتے دباؤ کے باعث لوگوں میں ایک نیا رواج پڑا اور انہوں نے غربت سے چھٹکارا پانے کے لیئے باہمی طور پر اپنے نوجوانوں کو مغربی ممالک بھیجنے کی کوششیں شروع کردیں۔
اسی رجحان نے انسانی سمگلنگ کو فروغ دیا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک منتظم جال ہے۔ چین میں عام طور پر ایک خاندان یا کمیونٹی مل جل کر اپنے ایک نوجوان کو غیر ملک بھیجنے کا انتظام کرتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکے۔ مورکومبے کے ساحل پر ڈوبنے والوں میں سے کوئی پندرے ہزار ڈالر دے کر یہاں تک پہنچ سکا اور کوئی اس سے کچھ کم یا زیادہ۔ دیگر طریقوں سے آنے والے تو 30 ہزار ڈالر تک ادا کرتے ہیں۔ اس طرح سے لائے جانے والے افراد کو بعض اوقات برطانیہ تک کے سفر میں دو ماہ بھی لگ جاتے ہیں۔ انہیں یہاں تک پہنچانے والے انہیں ملازمتوں میں ’بھرتی‘ کرانے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں خواہ مزدوری ہو یا کوڑا چننے کا کام۔ تاہم ’غیر ممالک کام دلوانے کی سکیم‘ اغوا سے زیادہ مشابہت رکھتی ہیں۔ یہاں پہنچنے والے یہ افراد اکثر جلد ہی یہ جان لیتے ہیں کہ انہیں یہاں تک کے سفر کے کرائے کے نام پر اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دے کر ان کی بھاری رقوم ان سے لوٹ لی جاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق انہوں نے ایسی ایسی جگہوں پر بھی چھاپے مارے ہیں جہاں ایک کمرے میں 40 افراد سو رہے تھے۔ بعض اوقات ان افراد کو مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کیا جاتا ہے تاکہ ان پر کنٹرول رکھا جاسکے مثلاً انہیں ان کے جوتے یا موزے نہیں دیئے جاتے۔ انہیں صرف ایک ہی حقیقت کام کرتے رہنے پر مجبور کردیتی ہے اور وہ یہ کہ ان کا بھیجا ہوا پیسے ان کے خاندان کے کام آرہا ہوگا۔ چین کے غریب علاقوں میں برطانیہ کی ایک ماہ کی تنخواہ وہاں کی پوری سال کی کمائی سے زیادہ ہے۔ سمگلنگ کا یہ نظام سادہ ہے مگر اسے توڑنا انتہائی مشکل ہے۔ غیر قانونی طور پر آنے والے یہاں شاذو نادر ہی کسی سرکاری محکمہ یا حکام سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی شناخت مشکل اور گنتی ناممکن ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: دو انسانی سمگلر گرفتار26 December, 2005 | پاکستان ایران نے 9 عراقی محافظ پکڑ لیے17 January, 2006 | آس پاس مسقط سے 700 پاکستانی بے دخل28 December, 2005 | پاکستان ’غیرملکی طلبہ کواجازت نہیں‘07 December, 2005 | پاکستان راحت علی پر جعلسازی کا الزام17 September, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||