’غیرملکی طلبہ کواجازت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کو اجازت دینے سے انکار کردیا ہے جبکہ پاکستان میں موجود باقی غیر ملکی طلبہ کو بھی واپس بھیجا جائےگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے بدھ کوامن و امان کےمتعلق بین الصوبائی کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بارہ سو کے قریب غیر ملکی طلبہ مدارس میں زیر تعلیم تھے جن میں سے بڑی تعداد میں جاچکے ہیں جو باقی ہیں ان کو بھی واپس بھیجا جائےگا مگر ایسا طریقہ اپنایا جائےگا جس سے ناراضگی نے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہاں کوئی غیر ملکی طالب پڑھ کر واپس جاتا ہے اور دس سال کے بعد بھی کسی کارروائی میں ملوث ہوتا ہے تو اس کے روٹس یہاں تلاش کیے جائیں گے اس لیے کسی بھی غیر ملکی کو یہاں کے مدرسے میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ شیر پاؤ نے بتایا کہ عسکریت پسندی، دہشتگردی، فرقہ واریت، نفرت انگیز مواد اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کے خلاف جاری مہم اسی رفتار کےساتھ جاری رہےگی اور اسی طرح انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی گرفتاری کی لیے بھی مہم چلائی جائےگی اس ضمن میں مانیٹرنگ کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر مانیٹرنگ سیل قائم کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ صوبائی سرحدوں اور اہم شاہراوں پر مشترکہ چیک پوسٹ بنائی جائےگی۔ جہاں پر پولیس، رینجرز، اینٹی نارکوٹکس فورس، کسٹمز اور نادرا کے اہلکار موجود ہوں گے جو ہتھیاروں کی سمگلنگ کی روک تھام اور مشتبہ افراد پر نظر رکھیں گے۔ آفتاب شیر پاؤ نے بتایا کہ بین الصوبائی کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قومی تنصیبات، گیس پائپ لائن اور ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن کی سکیورٹی یقینی بنائی جائےگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت جب ایک متنازع منصوبے کا اعلان کیا جارہا تھا کیا ان تنصیابات پر رد عمل میں حملوں کے امکان موجود ہیں تو انہوں نے غیر واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ میگا پراجیکٹس ملک کی ضرورت ہیں۔ قومی تنصیبات کی حفاظت پر اس فورم پر معمول کے تحت غور فکر کیا جاتا ہے۔ جب ان سے پو چھا گیا کہ کیا بلوچستان اور سندھ میں ٹریک پر حملوں اور دیگر دھماکوں میں قوم پرست ملوث ہیں تو وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ملوث ہیں مگر میں سے کسی کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ سندھ اور پنجاب میں گیس پائپ لائن کی حفاظت پر رینجرز مامور ہے’مگر ہم نے وزارت پیٹرولیم اور سوئی گیس اتھارٹی کو کہا ہے کہ وہ اپنی فورس بنائیں تاکہ رینجرز کو دوسری جگہ استعمال کیا جائے‘۔
وفاقی وزیر کے مطابق ہائی سکیورٹی جیلیں بنائی جائیں گی اور دیگر جیلوں میں سکیورٹی بیرکس قائم کی جائیں گی جہاں ہائی پروفائیل ملزمان کو رکھا جائےگا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی ہیں اس لیے پروبیشن اور پیرول پر قیدیوں کو چھوڑا جائےگا تاکہ کچھ رش کم ہوسکے۔ آفتاب شیر پاؤ نے بتایا کہ فاٹا میں سیاسی ڈیل کا عمل جاری ہے تاکہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لےکر آگے بڑھا جاسکے جبکہ وہاں ترقی کی رفتار بھی تیز کردی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاٹا میں فوکسڈ آپریشن جاری ہے تاکہ مقامی لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ صحافی اور فورسز کے اہلکاروں کے اغواء کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں مقامی لوگ ملوث ہیں جن پر جرگے کے ذریعے دباؤ ڈالے جائےگا۔ کراچی میں ہونے والی اس گیارہویں کانفرنس میں صوبائی وزیر داخلہ اور | اسی بارے میں برطانیہ کو آگاہ کیا تھا: شیرپاؤ13 July, 2005 | پاکستان کوئی گرفتاری نہیں ہوئی: شیرپاؤ 16 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||