راحت علی پر جعلسازی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی گلوکار راحت علی خاں کی گرفتاری کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ، ایف آئی اے نے عدالت سے ان کا دو روز کا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔ راحت علی خاں پاکستان کے معروف گلوکار اور موسیقار استاد نصرت فتح علی خان مرحوم کے بھتیجے ہیں اور دنیائے موسیقی میں ان کے جانشین سمجھے جاتے ہیں۔ راحت علی خاں کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایک شخص سہیل قیوم کو بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دیکر ان سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے وصول کرلیے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے راحت علی خاں نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے سہیل قیوم کے ساتھ کاروبار کیا تھا جس میں نقصان ہوا اور بدلے میں ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق سہیل قیوم نامی شہری نے کچھ عرصہ پہلے راحت علی خاں کے خلاف ایک تحریری درخواست دی تھی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ مبینہ طور پر راحت نے دو سال پہلے انہیں ایک طائفے کے ہمراہ انگلینڈ بھجوانے کا وعدہ کیا تھا جس کے لیے مدعی نے انہیں ساڑھے پانچ لاکھ روپے دیے تھے۔ وعدہ پورا نہ ہونے پر سہیل قیوم کے مسلسل اصرار پر راحت علی خاں نے انہیں ایک چیک دیا جو کیش نہ ہوسکا جس پر فیصل آباد میں ایف آئی اے حکام نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں حراست میں لے لیا جس کے بعد سنیچر کو فیصل آباد کی مقامی عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا۔ پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس سے پہلے بھی بعض فنکاروں کے خلاف طائفوں کی آڑ میں انسانی سمگلنگ کے الزامات کے تحت مختلف اوقات میں کارروائی کرتا رہا ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||